بجلی بلوں کی آڑ میں نیا فراڈ ؛ حکام نے عوام کو خبردار کردیا

جہلم: ملک میں بجلی بلوں کے نام پر ایک نیا فراڈ پھیل رہا ہے، اس حوالے سے حکام نے عوام کو خبردار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کیلئے حکومتی سبسڈی اسکیم کی آڑ میں ہیکرز اور فراڈی عناصر متحرک ہو گئے ہیں، جبکہ بجلی بلوں پر جعلی کیو آر کوڈز کے ذریعے صارفین کی معلومات چوری کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن نے اس حوالے سے صارفین کیلئے اہم ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں بجلی بلوں اور سبسڈی کے نام پر نیا فراڈ پھیلایا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق بعض جرائم پیشہ عناصر صارفین کو ایک مشکوک لنک بھیجتے ہیں، جس پر کلک کرنے کے بعد چار مراحل میں ذاتی معلومات درج کروائی جاتی ہیں۔ بعد ازاں صارفین سے ایک مخصوص 6 ہندسوں والا کوڈ درج کرنے کا کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے حساس معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
ضروری اور اہم اطلاع۔
کچھ غیر مصدقہ اور ممکنہ غیر قانونی مقاصد کیلیے استعمال کے مقاصد کیلیے بجلی کے بل کے علاوہ کیو آر کوڈ کو مختلف پلیٹ فارمز پر لوگوں سے شئیر کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہ رہے ہیں بجلی کے بل کے علاوہ بجلی سبسڈی سے متعلقہ معلومات کسی بھی اور پلیٹ فارم پر1/2 pic.twitter.com/ceQVAhre35— zafar yab khan (@zafaryabkhan) May 22, 2026
پاور ڈویژن نے واضح کیا ہے کہ بعض عناصر جعلی کیو آر کوڈز استعمال کر کے غیر قانونی اور مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق بجلی کے بل کے علاوہ کسی دوسرے پلیٹ فارم، چاہے وہ ڈیجیٹل ہو یا کاغذی، پر سبسڈی سے متعلق معلومات درج نہیں کی جا سکتیں اور ایسا طریقہ کار مکمل طور پر غلط اور غیر قانونی ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ ملوث عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی غیر مصدقہ لنک یا کیو آر کوڈ پر ہرگز کلک نہ کریں۔ اپنی ذاتی یا بینک معلومات کسی بھی غیر سرکاری پلیٹ فارم پر درج نہ کریں۔ بجلی سبسڈی یا بل سے متعلق معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔ مشکوک پیغامات یا لنکس موصول ہونے پر فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔
ترجمان پاور ڈویژن نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور مشکوک ذرائع سے شیئر ہونے والے مواد سے ہوشیار رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ مالی یا ڈیجیٹل فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔




