سوہاوہ کے نجی تعلیمی ادارے کی ٹیچر کا بہن بھائی پر مبینہ تشدد، مقدمہ درج

سوہاوہ: حکومت پنجاب کے مار نہیں پیار کے دعوے کو سوہاوہ کے نجی تعلیمی ادارے کی ٹیچر نے ہوا میں اڑا دیا، خاتون ٹیچر نے کم سن بہن بھائی کو سبق یاد نہ کرنے اور یونیفارم نہ پہننے پر مبینہ تشددکا نشانہ بنا ڈالا، پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں عام طور پر ’جسمانی تشدد‘ کا نام سنتے ہی سکولوں میں اساتذہ کی وہ مار پیٹ اور جارحانہ رویہ ذہن میں آتا ہے جس کی وجہ سے طلبہ وطالبات کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوجا تا ہے۔ سکولوں میں 4 سے14 سال کی عمر کے طلبہ و طالبات کوسب سے زیادہ جسمانی سزا دی جاتی ہے جبکہ کالجوں میں استاد کی مار پیٹ کے واقعات بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں،تاہم یونیورسٹی کی سطح پر ایسے واقعات کی تعداد صفر ہے۔
ایک ایسا ہی واقعہ سوہاوہ کے پرائیویٹ نیو سپرٹ سکول میں پیش آیا جہاں خاتون ٹیچر کرن نے سبق نہ یاد کرنے اور یونیفارم نہ پہننے پر دو بہن بھائی چھٹی کلاس کے حنان افضل اور پانچویں کلاس کی دعا شہزادی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
دونوں طلباء کے جسموں پر تشدد کے نشانات ہیں، دونوں طلباء کا ٹی ایچ کیو اسپتال سوہاوہ سے میڈیکل کروا لیا گیا۔
طلباء کے والد سوہاوہ کے محلہ شہیداں کے رہائشی مظہر محمود کی درخواست پر تھانہ سوہاوہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔



