بے قابو قیمتیں اور محدود وسائل؛ سفید پوش طبقہ 2024 میں شدید مشکلات کا شکار رہا

جہلم: شہریوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بے تحاشہ ٹیکسز اور مہنگائی کی تاریخی بلندیاں عوام کے لیے ناقابل برداشت بن چکی ہیں۔ بجلی، گیس، یوٹیلٹی بلز، ادویات، اور اشیائے خوردونوش کی بے قابو قیمتوں نے 2024 کو تلخ یادوں کے ساتھ رخصت کیا۔ سال بھر حکومت کے ریلیف کے دعوے اور وعدے محض طفل تسلیاں ثابت ہوئے۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ نئی نسل کے سوشل میڈیا رجحانات اس سال عروج پر رہے، جس کے باعث حکومت کو مختلف سوشل میڈیا ایپس پر پابندیاں لگانا پڑیں۔ دورِ جدید میں انٹرنیٹ کی سست روی بھی عوام کے لیے اضطراب کا باعث بنی۔ مزید یہ کہ ملک بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کھلے عام ہوتی رہیں، جس نے عوامی اعتماد کو مزید مجروح کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سیاسی میدان کو مخالفین کے لیے تنگ کر دیا، جس سے عوامی تاثرات میں بے یقینی اور مایوسی پیدا ہوئی۔ محدود آمدنی کے ذرائع کے سبب سفید پوش طبقہ کے لیے زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ایک کٹھن آزمائش بن چکا ہے۔



