انتخابات نہیں، کردار کی تبدیلی ضروری ہے

جس ملک میں خوفِ خدا رخصت ہو جائے، حلال و حرام کی تمیز مٹ جائے اور کمزور کو انصاف میسر نہ ہو، وہاں انتخابات کے کتنے ہی میلے سجا لیے جائیں، چہروں کے کتنے ہی نقاب بدل لیے جائیں، حالات بدلنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
پھر مائیں بچوں کو سینے سے لگا کر دریاؤں اور نہروں میں چھلانگیں لگاتی رہیں گی، نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں خطرناک ڈنکیوں پر موت کا سفر کرتے رہیں گے، لوگ بجلی اور سوئی گیس کے بل ادا کرنے کے لیے گھر کا سامان بیچنے اور اپنی عزت تک داؤ پر لگانے پر مجبور ہوتے رہیں گے، جبکہ اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر نومولود آنکھ کھولتے ہی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا شہری بن جائے گا۔ دوسری طرف عوام بلکتے، سسکتے، روتے اور اپنے ہی مقدر سے سوال کرتے رہیں گے۔
اصل مسئلہ انتخابات کی کمی نہیں، کردار کی کمی ہے؛ قانون کی کمی نہیں، قانون پر عمل کی کمی ہے؛ وسائل کی کمی نہیں، دیانت دار قیادت اور احتساب کی کمی ہے۔
ہم نے گزشتہ کئی دہائیوں میں بارہا حکومتیں بدلیں، چہرے بدلے، نعرے بدلے اور منشور بدلے، مگر عام آدمی کی زندگی میں وہ بنیادی تبدیلی نہیں آ سکی جس کا وعدہ ہر دور میں کیا گیا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نظام کی خرابی کا علاج صرف حکمران بدلنے میں تلاش کیا، جبکہ اصل ضرورت نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کرنے کی تھی۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ووٹ کے بعد منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرنے کا نام بھی ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے پوچھیں کہ قومی خزانہ کہاں خرچ ہوا، ترقیاتی منصوبوں پر کتنی رقم لگی، سرکاری ادارے کیوں کمزور ہوئے اور عام شہری کو بنیادی سہولیات کیوں میسر نہیں۔
میری رائے میں کرپشن کو معمولی جرم سمجھنے کے بجائے ایسا ناقابلِ معافی جرم قرار دینا چاہیے جس کی سزا انتہائی سخت ہو اور ہر صاحبِ اختیار کو یہ یقین ہو کہ قومی خزانے پر ہاتھ ڈالنے کے بعد قانون کا ہاتھ اس کے گریبان تک ضرور پہنچے گا۔ جس دن کرپشن کرنے والے کو یہ خوف لاحق ہو گیا کہ دولت، عہدہ اور تعلقات اسے قانون سے نہیں بچا سکتے، شاید اسی دن اس ملک کی تقدیر بدلنے کا سفر شروع ہو جائے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ کرپشن صرف بڑے منصوبوں میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کا نام نہیں۔ سفارش، رشوت، اختیارات کا ناجائز استعمال، سرکاری وسائل کا ذاتی استعمال، میرٹ کی پامالی اور اپنے مفاد کے لیے قانون کو نظر انداز کرنا بھی اسی بیماری کی مختلف شکلیں ہیں۔ جب معاشرے میں چھوٹی بدعنوانی کو معمول سمجھ لیا جائے تو بڑی کرپشن کے خلاف آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات ہر شہری تک بلاامتیاز پہنچائے۔ اگر ایک غریب باپ اپنے بچے کی تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتا، ایک بیمار شخص علاج کے لیے ترس رہا ہے، نوجوان روزگار نہ ملنے پر ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں اور ایک عام شہری انصاف کے حصول کے لیے سالہا سال عدالتوں کے چکر کاٹتا ہے تو ہمیں اپنے نظام کی کارکردگی پر ضرور سوال اٹھانا چاہیے۔
ملک صرف موٹرویز، پلوں اور عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتا۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب عام آدمی کو عزت کے ساتھ روزگار ملے، بچے کو معیاری تعلیم ملے، مریض کو بروقت علاج ملے، کسان کو اپنی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، مزدور کو اس کے پسینے کی پوری اجرت ملے اور شہری کو یقین ہو کہ قانون امیر اور غریب دونوں کے لیے برابر ہے۔
ہمیں اپنی سیاسی سوچ بھی تبدیل کرنا ہوگی۔ ووٹ ذات، برادری، تعلق، دولت یا وقتی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار، اہلیت، دیانت اور کارکردگی کی بنیاد پر دینا ہوگا۔ اگر ہم ہر بار اپنے ذاتی مفاد کے لیے غلط لوگوں کا انتخاب کریں گے تو پھر نظام کی خرابی کا ذمہ دار صرف حکمرانوں کو قرار دینا بھی مناسب نہیں ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب کا نظام مضبوط، شفاف اور بلاامتیاز ہو۔ کوئی شخص کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اگر وہ قومی خزانے کو نقصان پہنچاتا ہے تو اسے قانون کے سامنے جواب دینا چاہیے۔ اسی طرح کسی غریب یا کمزور شہری کو محض اس لیے انصاف سے محروم نہیں ہونا چاہیے کہ اس کے پاس وسائل یا تعلقات نہیں ہیں۔
قومیں صرف نعروں سے نہیں، اپنے کردار سے ترقی کرتی ہیں۔ جب ریاستی اداروں میں میرٹ، معاشرے میں دیانت اور سیاست میں خدمت کا جذبہ پیدا ہوگا تو تبدیلی خود بخود نظر آنا شروع ہو جائے گی۔
ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں جہاں سفارش کامیابی کی کنجی ہو یا ایسا پاکستان جہاں قابلیت راستہ بنائے؛ جہاں طاقتور قانون سے بالاتر ہو یا ایسا ملک جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔
انتخابات جمہوریت کا لازمی حصہ ہیں، لیکن انتخابات اپنے آپ میں تبدیلی کی ضمانت نہیں۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ووٹر باشعور ہوگا، حکمران جواب دہ ہوں گے، ادارے مضبوط ہوں گے، قانون کی حکمرانی قائم ہوگی اور معاشرے میں خوفِ خدا اور احساسِ ذمہ داری دوبارہ زندہ ہوگا۔
اگر ہم نے کردار، دیانت اور احتساب کو اپنی قومی ترجیحات بنا لیا تو شاید آنے والی نسلوں کو وہ مشکلات نہ دیکھنی پڑیں جن کا سامنا آج کا عام پاکستانی کر رہا ہے۔
ورنہ انتخابات آتے رہیں گے، حکومتیں بنتی اور ٹوٹتی رہیں گی، نعرے بدلتے رہیں گے، مگر غریب کی زندگی وہیں کھڑی رہے گی۔
اصل تبدیلی اقتدار کے ایوانوں میں چہرے بدلنے سے نہیں، کردار بدلنے سے آئے گی۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



