تحصیل کا درجہ ملنے کے 21 سال بعد بھی دینہ بنیادی سرکاری سہولیات سے محروم

دینہ: تحصیل کا درجہ ملنے کے 21 سال بعد بھی دینہ کے شہری بنیادی سرکاری سہولیات سے محروم ہیں۔ متعدد اہم انتظامی اور عوامی ادارے تاحال مکمل طور پر قائم یا فعال نہ ہونے کے باعث ہزاروں شہریوں کو معمولی نوعیت کے سرکاری امور اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے ضلعی ہیڈکوارٹر جہلم کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے انہیں اضافی وقت اور اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق دینہ کو 1977ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دیا گیا تھا، جبکہ 2005ء میں اسے تحصیل کا درجہ حاصل ہوا۔ تاہم دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود تحصیل ہیڈکوارٹر کی سطح پر متعدد بنیادی سرکاری ادارے مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے۔ تحصیل کچہری، ڈی ایس پی آفس اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال سمیت دیگر ضروری اداروں کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو اپنے جائز سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے جہلم کے ضلعی ہیڈکوارٹر تک سفر کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب دینہ سے سرکاری محصولات کی وصولی کے لیے مختلف ادارے اور محکمے باقاعدگی سے فعال ہیں اور حکومت کو ریونیو فراہم کیا جا رہا ہے، لیکن دوسری جانب انہی شہریوں کو بنیادی سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ دور میں حکومت کی جانب سے عوام کو سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر تحصیل دینہ کے مکین آج بھی متعدد بنیادی انتظامی سہولیات کے لیے ضلعی ہیڈکوارٹر کے محتاج ہیں۔

شہریوں نے منتخب عوامی نمائندوں کی عدم توجہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل دینہ میں ضروری سرکاری اداروں کے قیام اور انہیں مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً تحصیل کچہری، ڈی ایس پی آفس اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کے قیام کو ترجیح دی جائے، تاکہ شہریوں کو بار بار جہلم آنے جانے کی زحمت سے نجات مل سکے اور انہیں تحصیل کی سطح پر ہی بروقت، آسان اور باعزت سرکاری سہولیات میسر آ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button