جہلم میں روٹی و نان کی قیمتوں میں من مانا اضافہ، تندور و نانبائی بے لگام، شہری سراپا احتجاج

جہلم شہر سمیت گردونواح میں مہنگائی کا نیا بم پھٹ گیا ہے، جہاں تندور اور نانبائیوں نے ازخود روٹی اور نان کے نرخ بڑھا کر قانون کی دھجیاں اڑا دیں۔ ضلع بھر میں جنگل کا قانون نافذ ہو چکا ہے جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 100 گرام روٹی کا سرکاری نرخ 14 روپے اور نان کا نرخ 20 روپے مقرر ہے، تاہم گزشتہ چند روز سے متعدد تندور و نانبائی روٹی 20 روپے اور نان 25 روپے میں فروخت کر رہے ہیں، جو حکومتِ پنجاب کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سرکاری نرخ نامے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، جس کے باعث غریب اور سفید پوش طبقہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔

مہنگائی کے ستائے شہریوں اور نانبائیوں کے درمیان آئے روز تلخ کلامی، گالی گلوچ، توں تکرار اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور دوسری جانب تندور مافیا نے غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ چھین لیا ہے۔

عوامی حلقوں نے شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں غریب آدمی اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہو چکا ہے، مگر انتظامیہ کو عوامی کرب کا احساس نظر نہیں آتا۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیتے ہوئے گراں فروش تندور و نانبائیوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، بھاری جرمانے اور مقدمات درج کیے جائیں اور سرکاری نرخ نامے پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے۔

شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اگر انتظامیہ ہیلمٹ اور ڈرائیونگ لائسنس چیک کرنے میں سنجیدہ ہو سکتی ہے تو غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کر کے روٹی و نان کو سرکاری نرخوں پر دستیاب بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button