جہلم میں سوئی گیس کا بحران سنگین صورتحال اختیار کرنے لگا، شہری شدید پریشان

جہلم شہر اور گردونواح میں سوئی گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں صارفین کو 24 گھنٹوں میں بمشکل 6 گھنٹے گیس کی فراہمی ہو رہی ہے، جس کے باعث گھریلو اور کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ متبادل ایندھن کے طور پر استعمال ہونے والی ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار اور ایجنسی ہولڈرز من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں جبکہ سرکاری نرخنامہ کہیں نظر نہیں آتا۔
شہریوں نے مہنگائی کی بڑھتی ہوئی لہر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ روٹی کی سرکاری قیمت 14 روپے مقرر ہے مگر عملی طور پر 20 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ نان کی قیمت بھی 25 سے 30 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اسی طرح گوشت کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں گائے کا گوشت سرکاری نرخ 900 روپے کے بجائے 1200 روپے فی کلو جبکہ بکرے کا گوشت 1700 روپے کے بجائے 2800 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عیدالفطر کے بعد دکانداروں نے من مانی قیمتیں مقرر کر کے "جنگل کا قانون” نافذ کر دیا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر گیس کی فراہمی کو بہتر بنایا جائے، قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور گراں فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔



