ضلع جہلم میں سرکاری و نجی سکولز اور کالجز میں طلباء صاف پانی سے محروم، واٹر فلٹریشن پلانٹس غیر فعال

جہلم شہر اور ضلع بھر کے سرکاری و نجی سکولز و کالجز میں زیر تعلیم طلبا و طالبات کو صاف پانی کی فراہمی کا شدید فقدان ہے۔
بیشتر اداروں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس غیر فعال ہیں جبکہ کئی دہائیاں قبل تعمیر کی گئی پانی کی ٹینکیاں گندگی اور زنگ آلودگی کا شکار ہو چکی ہیں، جس کے باعث طلبا و طالبات کو آلودہ پانی پینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اکثر تعلیمی اداروں میں گندے اور بغیر فلٹر پانی کی سپلائی جاری ہے۔ طلباء و طالبات کا کہنا ہے کہ سکولز و کالجز میں نصب پانی کی ٹینکیوں اور پائپ لائنوں میں کائی اور زنگ جم چکا ہے جس کی وجہ سے پانی ناقابل استعمال ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ سکولوں کی ٹینکیوں کی صفائی کے لیے بھی کوئی مناسب انتظام موجود نہیں ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
زیادہ تر پرائمری اور مڈل سکولوں میں واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل طور پر غیر فعال ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں طلباء و طالبات کو اپنے گھروں سے پانی ساتھ لانا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے کیونکہ آلودہ پانی استعمال کرنے سے مختلف بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
والدین اور شہریوں نے اس سنگین مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور سی ای او ایجوکیشن سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، فلٹریشن پلانٹس کو فوری طور پر فعال کیا جائے، اور پانی کی ٹینکیوں کی صفائی کا مستقل انتظام کیا جائے تاکہ طلبا و طالبات کو صحت مند ماحول میسر ہو سکے۔



