ضلع جہلم میں سیمنٹ ایجنسیز مالکان نے خود ساختہ بحران پیدا کر کے سیمنٹ نایاب بنادیا

جہلم: ضلع جہلم میں سیمنٹ ایجنسیز مالکان نے مبینہ طور پر خود ساختہ بحران پیدا کر کے سیمنٹ نایاب بنا دیا ہے، جس کے باعث تعمیراتی شعبہ شدید مشکلات کا شکار ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایجنسیز مالکان کی جانب سے سیمنٹ کی مصنوعی قلت پیدا کر کے سرِعام بلیک مارکیٹنگ کی جا رہی ہے اور فی بوری دو سو روپے تک اضافی رقم وصول کی جا رہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔

ضلع بھر میں سیمنٹ کی طلب کے مقابلے میں سپلائی جان بوجھ کر محدود کر دی گئی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایجنسیز مالکان اور بعض ڈیلرز من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد، ٹھیکیداروں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ سیمنٹ کی قیمتوں میں اس غیر قانونی اضافے نے جاری تعمیراتی منصوبوں کو شدید متاثر کیا ہے اور کئی جگہوں پر کام مکمل طور پر رک چکا ہے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو نہ صرف سرکاری و نجی ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہوں گے بلکہ عام شہریوں کے لیے گھروں کی تعمیر مزید مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایجنسیز مالکان انتظامیہ کی عدم توجہی کا فائدہ اٹھا کر کھلے عام بلیک مارکیٹنگ کر رہے ہیں اور کسی کو قانون کا خوف نہیں رہا۔

تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد اور شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ لوٹ مار میں ملوث سیمنٹ ایجنسیز اور ڈیلرز کے خلاف سخت قانونی اور فوجداری کارروائی عمل میں لائی جائے، مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو کٹہرے میں لایا جائے اور ضلع بھر میں نافذ مبینہ جنگل کے قانون کا خاتمہ کیا جائے تاکہ تعمیراتی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں اور عوام کو ریلیف ملے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button