ابوریحان بیرونی خوارزم تا پنڈدادنخان

ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی المعروف البیرونی 973 عیسوی میں خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ وہ بو علی سینا کے ہم عصر تھے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو انہوں نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب ”آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ‘‘ مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔
حالات زندگی
کاث شہر دریائے جیحون (دریائے آمو) کے مشرقی کنارے پر واقع تھا۔ اس کے اردگرد کئی مضافاتی بستییاں تھیں جن میں ایک بستی کا نام بیرون تھا۔ اس مضافاتی بستی میں ایک یتیم بچہ پرورش پا رہا تھا جس کا نام محمد بن احمد تھا جو دنیا میں البیرونی کے نام سے مشہور ہوا۔
یہ بچہ شروع ہی سے قدرتی مناظر کا دلدادہ تھا۔ وہ دن بھر باغات میں پھرتا، پہاڑوں پر چڑھ جاتا، صحرا میں دوڑتا بھاگتا اور شام کے وقت گھر لوٹتا تو اس کے ہاتھ میں ریحان کی کونپلوں اور ٹہنیوں کا ایک گلدستہ ہوتا جسے وہ ایک پیالے میں سجا دیتا اور جب ہوا چلتی تو اس گلدستے کی خوشبو اس کے غریب خانہ کو معطر کردیتی۔ اس کی ماں اس کو اسی لیے ابو ریحان کہہ کر پکارتی تھی۔یہی بچہ بڑا ہو کر ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی کہلایا جس کی علمی قابلیت پر مسلم تاریخ بلا شبہ فخر کر سکتی ہے۔
البیرونی کا باپ ایک چھوٹا سا کاروبار چلاتا تھا لیکن اس کی ناگہانی موت کی وجہ سے البیرونی کی ماں اپنے لیے اور اپنے بیٹے کے لیے جنگل سے لکڑیاں جمع کرکے روزی کمانے پر مجبور ہو گئی۔ اس کام میں البیرونی اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتا تھا۔ایک روز البیرونی کی نباتات کے ایک عالم سے ملاقات ہو گئی۔
البیرونی نے اسے ایک باغ میں پھول توڑنے اور جنگل کے درختوں کے نیچے پودوں کو کاٹتے دیکھا تو اس عالم کے پاس پہنچ کر وہ کہنے لگا: جناب آپ ان پھولوں کو کیوں توڑ رہے ہیں اور پودوں کو کیوں کاٹ رہے ہیں؟ کیا آپ میری طرح ان کو کاٹے بغیر اور انہیں زندگی سے محروم کیے بغیر ان کی تصویریں نہیں بنا سکتے؟ یہ سن کر وہ عالم ہنس پڑا اور کہنے لگا: بیٹے میں ان پھولوں اور پودوں کو علم حاصل کرنے کی خاطر جمع کر رہا ہوں، ان پودوں اور پھولوں سے ہم بیماریوں کے علاج کے لیے دوائیں تیار کر یں گے۔
یہ سن کر البیرونی خوشی سے بولا: تو آپ نباتات کے عالم ہیں؟ اُس عالم نے پیار سے کہا: ہاں میرے بیٹے، میرا خیال ہے تمہیں پھولوں اور پودوں سے بہت محبت ہے۔ البیرونی نے کہا: میں تو تمام قدرتی مناظر سے محبت کرتا ہوں۔ ستاروں، درختوں، پودوں، پھولوں، پہاڑوں، ٹیلوں اور وادیوں سے مجھے بہت پیار ہے۔ اس عالم نے البیرونی کو روزانہ تعلیم دینا شروع کر دی اور نباتات کا علم سکھاتا رہا۔
اس وقت البیرونی کی عمر گیارہ سال تھی۔ تین سال گزر گئے اور ابو ریحان چودہ برس کا ہو گیا، اس عرصے میں اس نے یونانی اور سریانی زبانوں میں مہارت حاصل کرلی اور پودوں کی دنیا کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھ لیا۔ طبعی علوم کے بارے میں اس کا شوق اور بڑھ گیا۔ وہ عالم اپنے وطن لوٹنے سے پہلے البیرونی کو فلکیات اور ریاضی کے عالم ابو نصر منصور علی کے خدمت میں جو خوارزمی خاندان کا شہزادہ تھا لے گیا۔ ابو نصر نے البیرونی کے لیے الگ گھر تعمیر کرایا اور وظیفہ بھی مقرر کر دیا۔ ابو نصر ہر روز فلکیات اور ریاضی کا علم اسے سکھاتا رہا۔ بعد میں ابو نصر نے البیرونی کو مشہور ریاضی دان اور ماہر عبد الصمد کی شاگردی میں دے دیا۔
کارنامے
البیرونی نے ریاضی، علم ہیئت، تاریخ اور جغرافیہ میں ایسی عمدہ کتابیں لکھیں جو اب تک پڑھی جاتی ہیں۔ ان میں ”تحقیق الہند‘‘ قابل ذکرہے جس میں البیرونی نے ہندوؤں کے عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔
سب جانتے ہیں کہ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوؤں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ البیرونی کی ایک مشہور کتاب ”قانون مسعودی‘‘ ہے جو اس نے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے سلطان مسعود کے نام منسوب کی ہے ۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے۔
البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور ”کتاب الہند‘‘ تالیف کی، علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انھوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام ”البیرونی کریٹر‘‘ رکھا گیا ہے۔
البیرونی پنڈدادن خان میں
البیرونی کے اہم ترین کارناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے تجرباتی طریقہ سے زمین قطر معلوم کیا جو آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے معلوم کئے گئے قطر سے قریب ترین ہے۔ اس مقصد کے لیے البیرونی نے اپنے وقت کے رائج طریقوں سے یکسر ہٹ کر ٹریگنومیٹری کے اصولوں کے مطابق ایک بالکل انوکھا طریقہ وضع کیا جس میں آپ نے پہاڑی کی اونچائی اور افق سے بننے والے زاویوں کو استعمال کیا یہ سارا تجربہ آپ نے پنجاب کے ضلع جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان میں نندنا کے مقام پر کیا۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



