جعفر ایکسپریس آپریشن، بہادری کی ایک اور داستان

پاکستان میں دہشت گردی کی لہر نے ایک بار پھر سر اٹھایا ہے، لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی ہماری سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کا واحد حل وہی ہیں۔
حالیہ جعفر ایکسپریس حملے میں دہشت گردوں نے بربریت کا وہی پرانا کھیل کھیلنے کی کوشش کی، لیکن فورسز نے بہادری اور مہارت سے کارروائی کرتے ہوئے ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ یہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ جب بھی پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے، ہماری وردی والے اس کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔
11 مارچ کی صبح بلوچستان کے بولان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اس وقت قیامت برپا ہوئی جب جعفر ایکسپریس کو دہشت گردوں نے حملے کا نشانہ بنایا۔ مسافروں کو یرغمال بنایا گیا، ٹرین کے ڈرائیور کو شہید کر دیا گیا اور اندھا دھند فائرنگ سے کئی مسافروں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ایک گھناؤنی سازش کا حصہ تھا، جس کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا تھا۔ تاہم، فورسز کی بروقت کارروائی نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے مطابق، اس آپریشن میں 33 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور تمام یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا گیا۔ آپریشن انتہائی پیچیدہ تھا، کیونکہ دہشت گرد انسانی ڈھال کے طور پر مسافروں کو استعمال کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے نہایت پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا خاتمہ کیا اور مسافروں کو بچایا۔ تاہم، اس کارروائی میں 21 معصوم شہری اور 4 بہادر سپاہی شہید ہوئے، جن کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
دفتر خارجہ کی حالیہ بریفنگ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ جعفر ایکسپریس حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ ترجمان کے مطابق، حملے کی منصوبہ بندی بیرون ملک بیٹھے دہشت گردوں نے کی، اور انہیں افغانستان میں موجود گروہوں سے مدد ملی۔ بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروپوں کو بھارت کی خفیہ ایجنسی "را” کی پشت پناہی حاصل ہے، جو بلوچستان میں انتشار پھیلانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب بھارت کو دہشت گردی میں ملوث پایا گیا ہو۔ پہلے بھی کئی بار شواہد مل چکے ہیں کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے مالی و لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مسلسل عالمی برادری سے مطالبہ کر رہا ہے کہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ اگر ہماری افواج اور سیکیورٹی ادارے بروقت کارروائی نہ کریں تو دشمن ہمیں ایک لمحہ بھی سکون سے نہ جینے دے۔ جعفر ایکسپریس آپریشن جیسے بے شمار واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف وردی والے ہی سب سے بڑی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ چاہے وہ سوات آپریشن ہو، ضربِ عضب، ردالفساد یا حالیہ جعفر ایکسپریس آپریشن، ہر بار پاک فوج نے بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا ہے۔
یہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی جا رہی، بلکہ اس کا ایک بڑا حصہ خفیہ اطلاعات، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور بروقت فیصلوں پر منحصر ہے۔ پاکستانی سیکیورٹی ادارے نہ صرف ملک کے اندر موجود دہشت گردوں کے خلاف سرگرم ہیں بلکہ سرحد پار سے ہونے والی سازشوں کو بھی ناکام بنانے کے لیے متحرک ہیں۔
یہ درست ہے کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف ہر اول دستہ ہیں، لیکن اس جنگ میں کامیابی کے لیے عوام کا تعاون بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ہمیں دشمن کے پراپیگنڈے سے ہوشیار رہنا ہوگا اور قومی سلامتی کے معاملات پر فوج اور دیگر اداروں کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا۔ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں اور جھوٹی خبروں کا مقابلہ کرنا بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب قوم متحد ہو کر اپنے اداروں کا ساتھ دے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ جو دہشت گردی ہے، اس کا خاتمہ صرف اور صرف وردی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سلام، جو ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر رہے ہیں۔
پاکستان زندہ باد!
پاک فوج پائندہ باد!



