نئی نسل پر سوشل میڈیا کے اثرات

موجودہ دور انٹرنیٹ کا دور ہے۔ موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر انٹرنیٹ کی سہولیات نے جہاں زندگی اور کام کو آسان بنا دیا ہے، وہیں یہ سہولیات اپنے ساتھ کچھ منفی اثرات بھی لائی ہیں۔ سادہ لفظوں میں اگر کہوں تو ان سہولیات کا بے جا اور غیر ضروری استعمال نئی نسل کو ایک انجانے راستے پر لے جا رہا ہے، جس کی منزل یقیناً کوئی خوبصورت اور حوصلہ افزا نہیں ہے۔

اپنی بات کی وضاحت کے لیے میں دو حقیقی واقعات، جو سراسر سچائی پر مبنی ہیں، قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ چند دن قبل میرے جاننے والے ایک بزرگ اپنے پوتے کے ہمراہ میرے دفتر تشریف لائے۔ دورانِ گفتگو انہوں نے نئی گاڑی خریدنے کے متعلق بتایا اور کہا کہ ان کے پوتے کو گاڑی پسند نہیں ہے۔

میں نے ان کے پوتے (جو دس سے بارہ سال کا ہوگا) سے گاڑی نہ پسند کرنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ فلاں یوٹیوبر کے پاس فلاں گاڑی ہے، اور مجھے وہی پسند ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے یوٹیوبر کے بارے میں تفصیلات بتانی شروع کر دیں۔ تب پتہ چلا کہ وہ مذکورہ یوٹیوبر کے تمام وی لاگز باقاعدگی سے دیکھتا ہے۔ جب میں نے بچے سے اس کے اسکول کے امتحانات کے بارے میں پوچھا تو لمبی خاموشی نے میرا استقبال کیا۔ اس پر ساتھ بیٹھے دادا نے سرد آہ بھری، جو یقیناً ان کی بے بسی کا اظہار تھا۔

میرا معمول ہے کہ روزانہ شام کو نمازِ عصر کے بعد کچھ دیر کے لیے چہل قدمی کی نیت سے باہر جاتا ہوں۔ گزشتہ روز جب میں ٹہل رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ چند نو عمر لڑکے (دس سے چودہ سال کے) ایک درخت کے نیچے عجیب و غریب حرکات کر رہے ہیں۔ پھر اچانک انہوں نے ایک بچے کو مارنا شروع کر دیا۔ میں نے انہیں روکتے ہوئے وجہ پوچھی تو ایک لڑکے نے کہا کہ ہم وی لاگ بنا رہے ہیں۔ یہ سن کر میں حیران رہ گیا کیونکہ یہ بچے مڈل سے میٹرک کے طالب علم تھے اور اردو یا انگریزی شاید صحیح طرح سے پڑھ بھی نہ سکتے ہوں۔ لیکن انہوں نے مزید یہ بتا کر حیران کر دیا کہ ان کا باقاعدہ یوٹیوب چینل بھی ہے۔

جب میں نے ان سے اسکول کے امتحانات کی تیاری کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ چھوڑیں، پڑھ لکھ کر کیا کرنا ہے؟ ہم تو یوٹیوبر بنیں گے، جو راتوں رات لاکھوں کما رہے ہیں۔ پڑھنے والے تو خوار ہی ہوتے ہیں۔ یہ جواب سن کر میں ششدر رہ گیا، اور دکھ سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ ہم اپنی نئی نسل میں کیا روایات اور اقدار منتقل کر رہے ہیں۔

آج ایک ماں کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں۔ باپ تو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے دن رات تگ و دو کر رہا ہے۔ اپنی جان چھڑانے کی غرض سے مائیں بچوں کو موبائل پکڑا دیتی ہیں اور پھر یہ دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کرتیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے۔ ماؤں کو چاہیے کہ وہ بچوں کا اسکرین ٹائم چیک کریں اور یہ ضرور دیکھیں کہ بچہ کیا دیکھ رہا ہے۔

میری گزارش صرف اتنی سی ہے کہ والدین خدارا اپنی نسل کو تباہ ہونے سے بچائیں۔ اور یقیناً اس ضمن میں بطور والدین ہم سب کو اپنی اصلاح کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button