مہنگائی کے باعث گھریلو جھگڑوں کی شرح میں اضافہ، لڑائی جھگڑے روزانہ کا معمول بن گئے

جہلم: مہنگائی کے باعث گھریلو جھگڑوں کی شرح میں اضافہ، لڑائی جھگڑے روزانہ کا معمول بن گئے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی اور تنظیموں کے عمائدین نے معاشرتی عدم توازن سے پیدا ہونے والے خدشات کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے ملبوسات کو فروخت کرکے مہنگائی کم کرنے کے دعوے کرنے وا لے سیاست دانوں نے اقتدار میں آتے ہی ساتھیوں سمیت خوب مزے لینے شروع کررکھے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اِس عرصے کے دوران مہنگائی کم تو کیا ہو نا تھی بلکہ تاریخ کے تمام ریکارڈ پاش پاش کر دیئے، مہنگائی کی شرح میں کئی سو فیصد اضافہ ہو چکا ہے جس سے عام آدمی کا جینا دوبھر ہو گیا۔ مہنگائی کے باعث گھر یلولڑائی جھگڑوں کی شرح میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، اس صورتحال کے باعث ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کی تعداد میں بھی قابل ذکر حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
حکمرانوں کی طرف سے مراعات بڑھاتے چلے جانے کے باعث جہاں عوامی سطح پر غم وغصے میں اضافہ ہو ا ہے وہیں شدید معاشرتی عدم توازن بھی پیدا ہو ا ہے، جس کیوجہ سے غریب سفید پوش طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں میں لڑائی جھگڑے روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعظم پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیاہے کہ مہنگائی اور گراں فروشی کا نوٹس لیا جائے اور2022 کی قیمتیں بحال کی جائیں تاکہ غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھر اجڑنے سے بچ سکیں۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



