جہلم شہر میں عید الاضحیٰ کے تینوں ایام مہنگائی کا طوفان برپا رہا

جہلم شہر میں عید الاضحیٰ کے تینوں ایام مہنگائی کا طوفان برپا رہا، دکاندار چھریاں ٹوکے تیز کر کے خریداروں کی جیبوں کا صفایا کرتے رہے جبکہ ڈپٹی کمشنر کی طرف سے مہنگائی کو روکنے کے لئے مقرر کردہ درجنوں کی تعداد میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ٹھنڈے کمروں میں لطف اندوز ہوتے رہے، شہری مصنوعی مہنگائی کے ہاتھوں قربانی کا بکرا بنتے رہے ۔
شہریوں نے عید قربان کے موقع پر شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی کے آنے والے طوفان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ دکانداروں نے انتظامیہ کی عدم دلچسپی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عید کے موقع پر عید کے پکوانوں میں استعمال ہونے والی سبزیوں پیاز، ادرک، ٹماٹر، ہری مرچوں، دھنیا، پودینہ، سبز مصالحہ جات کی پرچون سطح پر قیمتوں میں بے پناہ اضافہ کرکے لوٹ مار کی انتہا کر دی۔
ایک کلو پیاز کا سرکاری نرخ 105 روپے کی بجائے 200 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتا رہا ، ایک کلو ٹماٹر کے سرکاری نرخ 80 روپے کی بجائے اڑھائی سو روپے ،لہسن دیسی 280 کی بجائے 400 روپے ، لہسن چائنہ 430 کی بجائے 600 روپے ، سبز مرچ فارمی 95 روپے کی بجائے 200روپے، لیموں 540 کی بجائے 800 روپے ، ادرک چائنہ 640 روپے کی بجائے 800روپے، ادرک تھائی لینڈ 640 کی بجائے 800 روپے میں فروخت کی گئی ۔
اسی طرح مصالحہ جات مقررہ قیمتوں سے 50 فیصد اضافی نرخوں پر فروخت کئے جاتے رہے۔ پھلوں میں سیب ، کیلا، خربوہ ، تربوز، آڑو ، خوبانی کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کرکے فروخت کیا جاتا رہا ۔
بے بس عوام نے سبزیوں، پھلوں اور مصالحہ جات کی گراں فروشی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اخبار نویسوں سے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ، چیف سیکرٹری پنجاب اور ضلعی انتظامیہ رواں سال مہنگائی کو ختم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کئے جو کہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گراں فروشوں نے من مرضی کے نرخ مقرر کرکے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ، ضلعی انتظامیہ نے اپنی توجہ صفائی ستھرائی پر مرکوز کئے رکھی جبکہ مہنگائی کا طوفاں برپا کرنے والے دکانداروں نے شہریوں کی جیبوں کا صفایا کیا۔



