جہلم میں بلیک میلنگ کا دھندہ تھم نہ سکا، بلیک میلر گروہ نے نیا شکار کر لیا

جہلم: شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے جھوٹی تہمتیں لگانے اور بلیک میلنگ کرنے کا دھندہ تھم نہ سکا، بلیک میلر گروہ نے نیا شکار کرلیا۔ تھانہ سول لائن میں شہر کے معروف کارروباری افراد کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، شہر کی تاجر برادری سراپا احتجاج ہے۔
تفصیلات کے مطابق عشاء انمول دختر اظہر محمود سکنہ نیا محلہ جہلم نے تھانہ سول لائن درخواست دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میرے ساتھ چند کارروباری افراد نے غیر اخلاقی حرکات کیں جس کی وجہ سے میں حاملہ ہوگئی ہوں، شہریار نامی لڑکا میرے ساتھ دکان پر کام کرتا تھا جس نے مجھے اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا کر شادی کا کہہ کر میرے ساتھ بداخلاقی کرتا رہا اس دوران میں حاملہ ہو گئی، جب میں نے اسے بتایا تو اس نے مارپیٹ شروع کردی۔
لڑکی نے الزام عائد کیا کہ شہریار کے عزیز رشتے داروں نے مجھے اسلحہ کی نوک پر ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس طرح انہوں نے میری شادی شجاعت نامی لڑکے سے کروادی۔
پولیس نے شہر کی معروف کارروباری شخصیات کے خلاف زیر دفعہ 376 ت پ ، 365-B ت پ ،506.ii ت پ کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔
جہلم شہر کی تاجر برادری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پچھلے چند سالوں سے جہلم ضلع بھر میں ایک مخصوص گروہ تاجروں کی پگڑیاں اچھالنے اور بدنام کرکے مقدمات درج کروا نے میں مصروف عمل ہے ،شریف شہریوں کو مقدمات میں الجھاتے ہوئے ڈرادھمکا کر صلح کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔
ذرائع سے معلوم ہواہے کہ تھانہ سول لائن میں مقدمہ درج ہونے کے بعد چند ملازمین نے تاجروں اور الزام عائد کرنے والی لڑکی کے درمیان پل کا کردار ادا کرنا شروع کررکھا ہے اور تاجروں کو مشورہ دیا جا رہاہے کہ رقم ادا کرکے مقدمے سے جان چھڑوالیں تاہم تاجروں کا کہنا ہے کہ ہمارے اوپر بے بنیاد من گھڑت ،جھوٹا الزام عائد کرکے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پولیس کو مقدمہ درج کرنے سے قبل مکمل چھان بین کرنی چاہئے مقدمہ درج کرکے شریف شہریوں کی پگڑیاں اچھالنے کا کام اب بند کرنا ہوگا۔ اگر پولیس نے میرٹ پر تفتیش کرکے انصاف فراہم نہ کیا تو آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے پرمجبور ہوں گے۔



