معمولی کمی کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح پھر بڑھنے لگی

ملک میں مہنگائی کی شرح میں معمولی کمی کے بعد پھر سے اضافہ ہوگیا، حالیہ ہفتے مہنگائی میں0 اعشاریہ 07 فیصد کی معمولی شرح کے حساب سے اضافہ ہواہے اور سالانہ بنیادوں پرمہنگائی کی شرح 3 اعشاریہ 71 فیصد رہی ہے۔
وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے میں 18 اشیاء مہنگی اور 11 اشیاء سستی ہوئیں جبکہ22 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران آلو کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 93فیصد،چکن کی قیمتوں میں3 اعشاریہ 80فیصد،کیلا 1 اعشاریہ 99 فیصد، واشنگ سوپ 0 اعشاریہ 80 فیصد،سرسوں کا تیل 1 اعشاریہ 07 فیصد، انرجی سیور0 اعشاریہ 31 فیصد، ایل پی جی 0 اعشاریہ 28فیصد، سگریٹ 0 اعشاریہ 26 فیصد اورگھی کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 52 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے برعکس دال چنا کی قیمتوں میں1 اعشاریہ 19فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 59 فیصد، پیاز3 اعشاریہ 58 فیصد، ٹماٹر3 اعشاریہ 10فیصد، انڈے2 اعشاریہ 14 فیصد، لہسن 1 اعشاریہ 58 فیصد، آٹا 0 اعشاریہ 58 فیصد، آگ جلانے والی لکڑی 0 اعشاریہ 16 فیصد اورچاول کی قیمتوں میں0 اعشاریہ 75فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 03 فیصد اضافے کے ساتھ3 اعشاریہ 68فیصد، اور 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح 0 اعشاریہ 05 فیصد اضافے کے ساتھ 3 اعشاریہ 66 فیصد رہی ہے۔
اسی طرح 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 07 فیصد اضافے کے ساتھ 3 اعشاریہ 95 فیصد،اور 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلیے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 07 فیصدکمی کے ساتھ 3 اعشاریہ 65فیصد رہی ہے۔
اسی طرح 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح0 اعشاریہ 08 فیصد کمی کے ساتھ 3 اعشاریہ 69 فیصد رہی ہے۔



