رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی مہنگائی بے قابو، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس غیر فعال

جہلم: رمضان المبارک کے دوسرے عشرے میں بھی جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں مہنگائی کا جن قابو میں نہ آ سکا۔

پرائس کنٹرول مجسٹریٹس عملی طور پر غیر فعال دکھائی دے رہے ہیں جبکہ درجنوں مجسٹریٹس فیلڈ میں نظر آنے کے بجائے اپنے دفاتر تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جس کے باعث گراں فروش کھل کر من مانیاں کر رہے ہیں اور بازاروں میں سرکاری نرخ نامے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔

حکومت پنجاب کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ پرائس مجسٹریٹس مکمل طور پر فیلڈ میں موجود رہیں گے اور پیرا فورس دیگر امور ترک کر کے صرف مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے سرگرم عمل ہوگی، تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ تو مجسٹریٹس بازاروں میں نظر آتے ہیں اور نہ ہی پیرا فورس کی کوئی مؤثر کارروائی دکھائی دیتی ہے۔

جہلم شہر کے مختلف علاقوں بالخصوص محمدی چوک، قبرستان چوک، اہلحدیث چوک، تحصیل روڈ، سبزی و فروٹ منڈی، بلال ٹاؤن، چونترہ، کھرالہ، روہتاس روڈ اور کاکا گجراں میں گراں فروشی عروج پر ہے جہاں دکانداروں نے سبزیوں اور پھلوں کی از خود قیمتیں مقرر کر کے وصولیاں شروع کر رکھی ہیں۔ خریدار جب زیادہ قیمت کی شکایت کرتے ہیں تو دکاندار ہول سیل منڈی سے مہنگی خریداری کا جواز پیش کرتے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ہول سیل سطح پر سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جائے تو پرچون سطح پر بھی قیمتیں قابو میں لائی جا سکتی ہیں۔ دوسری جانب قصابوں نے گائے کا گوشت 1200 سے 1400 روپے فی کلو جبکہ بکرے کا گوشت 2200 سے 2400 روپے فی کلو تک فروخت کرنا شروع کر رکھا ہے۔

شہریوں کے مطابق قانون موجود ہونے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مجسٹریٹس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور گراں فروشی کے مرتکب دکانداروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے تاکہ غریب اور سفید پوش طبقہ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کر سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button