جہلم میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا انکشاف، فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران خاموش

جہلم شہر کے مضافاتی علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔
مضر صحت اور غیر معیاری دودھ، گھی، مکھن، مرچ اور کھلے مصالحے دھڑلے سے فروخت کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے متعلقہ ذمہ داران کی خاموشی اور عدم توجہی کے باعث شہری مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
مضر صحت اشیائے خورونوش کے استعمال سے شہریوں میں گیسٹرو، معدے کی خرابی، اور دیگر وبائی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں صحت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
عوامی سماجی حلقوں اور شہریوں، جن میں محمد رفیق، چوہدری طارق، حافظ اشتیاق، ماجد عبدالغفار، مہر محمد افضل اور دیگر شامل ہیں، نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے اس سنگین صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملاوٹ کا یہ سلسلہ عوام کی صحت کے لیے شدید خطرہ ہے اور فوری ایکشن لے کر اس جنگل کے قانون کو ختم کیا جانا چاہیے۔



