چائلڈ لیبر کے خاتمے میں ناکامی، محکمہ لیبر جہلم کی کارکردگی سوالیہ نشان

جہلم: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت کے باوجود ضلع جہلم میں چائلڈ لیبر کے خاتمے اور مقررہ اجرت سے کم تنخواہ دینے والوں کے خلاف محکمہ لیبر کی کارروائیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی جانب سے تاحال کریک ڈاؤن کا آغاز نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث کم عمر بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ جاری ہے۔

ڈپٹی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے واضح احکامات کے باوجود ضلع جہلم میں محکمہ لیبر کے افسران اور ماتحت عملہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور حکومت پنجاب کی مقرر کردہ اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے۔

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں کام کرنے والے ملازمین کو 15 سے 25 ہزار روپے تنخواہ پر رکھا جاتا ہے جبکہ ان سے 12 سے 14 گھنٹے تک کام لیا جاتا ہے۔ ہوٹلوں، ورکشاپس اور دیگر مقامات پر معصوم بچوں سے مشقت کروا کر شام کو محض 70 سے 80 روپے تھما دیے جاتے ہیں، جو کہ محکمہ لیبر کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شہریوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے حکومت کو انسپیکشنز کی تعداد بڑھانی ہوگی اور بچوں سے مزدوری کروانے والے مالکان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو پابند سلاسل کیا جائے اور ان کے خلاف مضبوط کیسز بنا کر عدالتوں میں بھجوائے جائیں تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ سزا دی جا سکے۔

شہریوں نے محکمہ لیبر پر زور دیا کہ وہ حکومت پنجاب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہر مزدور کو مقررہ اجرت دلوانے کے لیے سخت اقدامات کرے۔ کم اجرت دینے والے مالکان کے خلاف مقدمات درج کروائے جائیں اور قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنایا جائے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری لیبر سے فوری نوٹس لینے اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سخت کارروائیاں عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button