جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں آوارہ کتوں کی بھرمار، شہری پریشانی کا شکار

جہلم شہر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات، نماز کے لیے جانے والے نمازی اور خواتین کو گھروں سے نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ محکمہ صحت اور میونسپل کمیٹی کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث شہر کی گلیوں، محلوں، چوراہوں اور بازاروں میں آوارہ کتوں کے جھنڈ دندناتے پھر رہے ہیں۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کتے نہ صرف بچوں اور خواتین کا تعاقب کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان پر حملہ آور بھی ہو جاتے ہیں، جس سے کئی افراد زخمی بھی ہو چکے ہیں۔

سکولوں اور کالجز کے اوقات میں بچوں کو والدین خود چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں جبکہ خواتین نے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنا کم کر دیا ہے۔ نماز کے اوقات میں مساجد کی طرف جانے والے نمازی بھی خوفزدہ ہیں، کیونکہ اکثر مساجد کے باہر بھی یہ کتے گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم، ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی اور چیف آفیسر ایم سی سے فوری نوٹس لینے اور آوارہ کتوں کی تلفی کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو کسی بڑے حادثے کا خدشہ ہے۔

عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور میونسپل عملے کو متحرک کیا جائے تاکہ آوارہ کتوں سے نجات حاصل کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button