جہلم میں گداگری ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کر گئی، شہری بے زار، انتظامیہ خاموش تماشائی

جہلم شہر اور اس کے گرد و نواح میں پیشہ ور بھکاریوں کی یلغار نے شہریوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ گداگری کا پیشہ اب ایک منظم کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں بھکاری مختلف ڈھونگ اور طریقوں سے شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے بھیک بٹورنے میں مصروف ہیں۔
جہلم شہر کے مصروف ترین علاقوں جیسے ہسپتال، ہوٹلز، بیکریاں، ریلوے روڈ، مین بازار اور اولڈ جی ٹی روڈ پر بھکاریوں کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے۔ خواتین، نوجوان لڑکیاں، بچے، بوڑھے، معذور افراد اور خود ساختہ خواجہ سرا بھی اس "کاروبار” میں شامل ہو چکے ہیں، جو شام کے وقت دلہن کی طرح تیار ہو کر مخصوص مقامات پر پہنچ جاتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی گاڑی یا راہگیر نظر آتا ہے، یہ بھکاری اپنی مخصوص اداؤں سے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پیسے بٹورتے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض بھکاری خواتین نے بچوں کو گود میں لے رکھا ہوتا ہے، جب کہ کچھ نابینا بننے کا ڈرامہ کرتے ہیں۔ کئی بھکاری بچوں کے جسموں پر مرہم پٹی لگا کر ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ لوگ زیادہ بھیک دیں۔ ان تمام حرکات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گداگری کے پیچھے ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے، جو مختلف افراد کو مخصوص مقامات پر بھیج کر ان سے "کمائی” کرواتا ہے۔
شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ گداگری اب ایک سماجی مسئلہ بن چکی ہے جس کا سدباب ضروری ہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت گداگری کو جرم قرار دے چکی ہے اور اس کے خلاف قانون سازی بھی ہو چکی ہے، مگر اس کے باوجود قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکے اور شہر کی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔



