پاکستان پوسٹ کا عام پارسلز، ایکسپریس سروسز پارسلزکے نرخوں کا حجمی نظام کے تحت وصولی کا فیصلہ

جہلم: پاکستان پوسٹ نے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک بھیجے جانے والے عام پارسلز اور ایکسپریس میل سروس (ای ایم ایس) پارسلز کے نرخوں میں بنیادی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت یکم جولائی 2025 سے وزن کی بنیاد پر چارجنگ کے بجائے حجمی نظام (Volumetric Weight System) کے تحت چارجز وصول کیے جائیں گے، جس کا اطلاق تمام چھوٹے بڑے پارسلز پر یکساں ہوگا۔

پوسٹل ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق، یہ قدم دنیا کے دیگر ممالک اور نجی کوریئر کمپنیوں کے طرزِ عمل کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُٹھایا گیا ہے تاکہ پاکستان پوسٹ کو درپیش مالی خسارے اور غیر متوازن اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔

نیا طریقہ کار:

پوسٹ آفس کے مطابق، پارسل کا وزن نکالنے کا نیا فارمولا یہ ہوگا:

(لمبائی x چوڑائی x اونچائی) ÷ 5000 = حجمی وزن (Volumetric Weight)

یہ پیمائش سینٹی میٹرز میں کی جائے گی، اور پھر اصل وزن اور حجمی وزن میں سے جو زیادہ ہوگا، اسی کو شمار کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ کم وزن مگر بڑے سائز کے پارسل بھی مہنگے داموں بھیجے جائیں گے۔

وجہ اور فوائد:

ادارے کی جانب سے جاری وضاحت میں کہا گیا ہے کہ بڑے حجم کے مگر کم وزن والے پارسلز کی ترسیل میں پاکستان پوسٹ کو آمدن کی نسبت اخراجات زیادہ برداشت کرنا پڑتے تھے، جس سے مالی دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اس نئے سسٹم سے نہ صرف ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا بلکہ غیر ضروری طور پر بڑے سائز کے پیکٹس استعمال کرنے والوں کو بھی باز رکھا جا سکے گا۔

اضافی تفصیلات:

  • حجمی نظام کے تحت بھیجنے کے لیے زیادہ سے زیادہ اصل وزن کی حد 30 کلوگرام برقرار رکھی گئی ہے۔
  • نئے چارجز کے حساب کے لیے اضافی کلیہ بھی سرکلر میں شامل کیا گیا ہے۔
  • اس فیصلے کی منظوری پوسٹل سروسز مینجمنٹ بورڈ نے دی ہے، اور یہ باقاعدہ طور پر یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔

پاکستان پوسٹ کے اس فیصلے کو ماہرین ایک انتظامی اور مالی لحاظ سے مثبت قدم قرار دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف عالمی معیار کی مطابقت بڑھے گی بلکہ ادارے کے آپریشنز میں بہتری اور آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ پارسل بھیجتے وقت وزن اور سائز کا خیال رکھیں تاکہ غیر ضروری اضافی اخراجات سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button