جہلم جیسے حساس علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں نامعلوم بھکاریوں کے جتھے گھس آئے

جہلم جیسے حساس علاقے میں سینکڑوں کی تعداد میں نا معلوم بھکاریوں کے جتھے کہاں سے گھس آئے، جن میں معصوم بچے عورتیں مرد بزرگ شامل ہیں۔ بازاروں سڑکوں چوراہوں اور مساجد کے باہر کہیں بھی آپ آزادی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے نہ ہی خواتین بھکاری سکون سے صارفین کو خریداری کرنے دیتی ہیں یہ کون لوگ ہیں کہاں سے آئے ہیں کوئی نہیں جانتا، لیکن جہلم جیسے حساس شہر میں ان کا بھاری تعداد میں آنا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سوالیہ نشان ہے۔

بھکاری سارا سارا دن روزے کی حالت میں گھروں میں آرام کرنے والوں کے دروازوں پر دستک دے دے کر ان کا آرام خراب کرتے دکھائی ہیں اگر کوئی شہری انہیں بارہا بھیک مانگنے سے منع کرے تو یہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے اور آخر کار شہری ان کے ساتھ سخت رویہ برتنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ بھیک نہ دینے والے شہریوں کو لعن طعن کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

جہلم شہرکی شہری، سماجی، رفاعی، فلاحی اور مذہبی تنظیموں کے عمائدین نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھکاری چونکہ شہر کے لئے سیکورٹی رسک بن بنتے جارہے ہیں لہٰذا انہیں گداگری ایکٹ کے تحت پابند سلاسل کرتے ہوئے انہیں ان کے اضلاع میں واپس بھیجا جائے تاکہ شہر میں بسنے والے شہریوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button