گندم کی کٹائی؛ جہلم غیر مقامی افراد کی بے ہنگم یلغار کا شکار، محافظ خاموش کیوں ؟

جہلم، جو کبھی اپنے سکون، تہذیب اور منظم سماجی ڈھانچے کے لیے پہچانا جاتا تھا، آج کل غیر مقامی افراد کی بے ہنگم یلغار کا شکار ہے۔ گندم کی فصل کی کٹائی کے موسم میں مزدوروں کی آمد تو ایک روایت رہی ہے، مگر اس بار جس انداز میں صوبہ خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب اور دیگر اضلاع سے درجنوں نہیں، بلکہ سینکڑوں افراد کی آمد ہوئی ہے، وہ محض کٹائی کی مزدوری تک محدود دکھائی نہیں دیتی۔
یہ افراد بغیر کسی شناخت، تصدیق اور رجسٹریشن کے نہ صرف شہر میں داخل ہو چکے ہیں بلکہ دیہی علاقوں سے لے کر شہری محلّوں تک پھیل چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ پولیس متحرک ہے، نہ حساس ادارے چوکنے دکھائی دیتے ہیں۔ ہر گلی، ہر چوراہے پر اجنبی چہرے موجود ہیں، جن کے بارے میں مقامی لوگ نہ کچھ جانتے ہیں، نہ ان کی موجودگی کا جواز سمجھ پاتے ہیں۔
عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ کئی محلّات میں خواتین نے اکیلے گھر سے نکلنا ترک کر دیا ہے۔ مقامی دکانداروں، کسانوں اور مساجد کے امام حضرات سب ہی ان نامعلوم افراد کی آزادانہ نقل و حرکت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ گھروں میں چوریاں، کھیتوں سے سامان غائب ہونا، چھوٹی موٹی وارداتیں اب روزمرہ کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ریاست کی رِٹ قائم رکھنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو پھر ایسے نازک معاملے پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش کیوں ہیں؟ کیا ان کے پاس افرادی قوت نہیں؟ یا پھر یہ خاموشی کسی مجبوری یا مصلحت کا نتیجہ ہے؟
ضلع انتظامیہ، خاص طور پر پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ہر ایسے شخص کو، جو مقامی نہیں، کم از کم عارضی رجسٹریشن یا کوائف جمع کرانے کا پابند بنایا جائے۔ یہ نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد دے گا، بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری ردِعمل ممکن ہوگا۔
یہ بات نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کچھ عناصر مزدوری کی آڑ میں جہلم جیسے پُرامن ضلع میں جرائم پیشہ سرگرمیوں کا جال بُننے میں مصروف ہیں۔ ایسے افراد جو نہ کسی مقامی شخص کی ضمانت پر آئے، نہ کوئی قومی شناختی دستاویز رکھتے ہیں، وہ سادہ لوح دیہاتیوں اور محنت کشوں کے علاقوں میں آسانی سے پناہ لے لیتے ہیں۔
یہ وقت ہے کہ ڈی پی او جہلم، ڈپٹی کمشنر اور حساس ادارے اس سنگین صورت حال کا فوری نوٹس لیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ:
شہر و دیہات میں فوری سروے کر کے غیر مقامی افراد کی فہرست تیار کی جائے۔
محلہ کمیٹیاں اور مقامی پولیس اسٹیشنز کے درمیان مربوط رابطہ قائم کیا جائے۔
مزدوروں کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا جائے۔
عوام کو واٹس ایپ ہیلپ لائن یا قریبی تھانے کے ذریعے نامعلوم افراد کی نشاندہی کا اختیار دیا جائے۔
جہلم کے امن، عوام کے اعتماد اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے یہ اقدام آج، ابھی اور فوری کرنا ہوں گے۔ ورنہ کل کو یہی خاموشی ایک بڑے خطرے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)



