ضلع جہلم میں منافع خوری عروج پر پہنچ گئی، سرکاری نرخنامے نظر انداز

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں منافع خوری عروج پر پہنچ گئی ہے جبکہ سرکاری نرخناموں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ شہر اور قرب و جوار کے بیشتر دکانداروں نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر رکھے ہیں جبکہ سرکاری ریٹ لسٹ صرف دکانوں پر آویزاں کر کے رسمی کارروائی پوری کی جا رہی ہے۔
شہریوں کے مطابق قصاب طبقہ بھی سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کرتے ہوئے گوشت من مانے نرخوں پر فروخت کر رہا ہے۔ اسی طرح سبزی، فروٹ اور کریانہ اسٹور مالکان نے بھی سرکاری ریٹ لسٹ صرف دکھاوے کے لیے لگا رکھی ہے جبکہ اشیائے خورد و نوش اپنی مرضی کے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔
عوام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونا وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔ شہریوں کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر انتظامی افسران زیادہ تر اپنے دفاتر تک محدود رہتے ہیں جبکہ چند اہلکار گلی محلوں میں جا کر چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کر کے سب اچھا کی رپورٹ پیش کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب شہر میں بڑے ناجائز منافع خور مافیا انتظامی گرفت سے باہر نظر آتے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ماہ رمضان کے دوران مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے سخت احکامات پر ضلع جہلم میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اپنی ٹیم کو ضلع جہلم کا دورہ کروایا جائے اور متعلقہ انتظامیہ کو گراں فروشوں کے خلاف سخت کارروائی اور فوجداری مقدمات درج کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ مہنگائی میں کمی لائی جا سکے۔



