لیبر ڈیپارٹمنٹ کی غفلت، مزدوروں کو 40 ہزار اجرت کا سرکاری اعلان صرف نوٹیفکیشن تک محدود

جہلم: وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کے باوجود لیبر ڈیپارٹمنٹ ضلع جہلم میں مزدوروں کو 40 ہزار روپے اجرت دلوانے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔

جہلم، دینہ، سوہاوہ اور پنڈدادنخان سمیت گردونواح کے علاقوں میں مزدوروں کو محض 1000 سے 1200 روپے یومیہ اجرت دے کر ٹرخایا جا رہا ہے۔ متعلقہ محکمے کی عدم دلچسپی کے باعث دیہاڑی دار طبقے کا کھلا استحصال جاری ہے۔

ہوٹلز، مارکیز، میرج ہالز، پٹرول پمپس، چائے کے ڈھابوں، ورکشاپس اور دکانوں پر کم عمر بچوں، نوجوانوں اور بے روزگار افراد کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مالکان انتہائی کم تنخواہیں (15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ) اور 500 سے 700 روپے تک دیہاڑی دے رہے ہیں جبکہ ان سے 12 سے 14 گھنٹے مشقت لی جاتی ہے۔

جہلم شہر میں لیبر ڈیپارٹمنٹ کا دفتر موجود ہونے کے باوجود کارکردگی صفر ہے۔ محکمے کے ملازمین ہر ماہ باقاعدگی سے کاروباری مراکز پر جاتے ہیں اور علیحدگی میں مالکان سے ملاقات کے بعد واپس دفاتر لوٹ آتے ہیں، لیکن مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

شہریوں اور سماجی و فلاحی تنظیموں کے عمائدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ مزدوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اجرت کو یقینی بنایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے دور میں محنت کش اپنے گھروں کے چولہے جلا سکیں اور کمسن بچوں کو مزدوری پر نہ لگانا پڑے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button