جہلم میں پھیری والوں اور بھکاریوں نے لاوڈ اسپیکر پر صدائیں لگا کر عوام کا سکون غارت کر دیا

جہلم شہر اور گردونواح میں لاوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال نے شہریوں کا سکون چھین لیا۔
پھیری والے اور بھکاری سرعام قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لوڈر رکشوں، گدھا گاڑیوں اور ریڑھیوں پر لاوڈ اسپیکر نصب کر کے صبح سویرے بلند آواز میں صدائیں لگانا معمول بنا چکے ہیں، جس سے رہائشی علاقوں میں شور و غل کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
پھل، سبزی اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے ریڑھی بان اور لوڈر رکشہ ڈرائیور علی الصبح اپنی گاڑیوں پر نصب لاوڈ اسپیکر کے ذریعے بلند آواز میں اعلانات شروع کر دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اب بھکاریوں نے بھی لاوڈ اسپیکر کا سہارا لے کر گھروں کے باہر آ کر بھیک مانگنے کا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں اس وقت ہو رہی ہیں جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے لاوڈ اسپیکر کے بے جا استعمال پر سخت پابندی عائد ہے۔ تاہم متعلقہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اب یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔
شہریوں نے اس صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم طارق عزیز سندھو سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں تاکہ عوام سکون کا سانس لے سکیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ لاوڈ اسپیکر کے بے ہنگم اور غیر ضروری استعمال سے نہ صرف بزرگوں، خواتین اور بچوں کو ذہنی کوفت کا سامنا ہے بلکہ مریضوں اور طلبہ کی یکسوئی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔



