جہلم میں مبینہ جوئے کا بازار گرم، نوجوان کنگال ہونے لگے، بکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن متوقع

جہلم شہر سمیت ضلع بھر کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر جوئے کے کاروبار میں اضافے کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں، جہاں گلی محلوں میں بکیوں کے سرگرم ہونے اور نوجوانوں کے مختلف کھیلوں پر رقم کے داؤ لگانے کی اطلاعات ہیں۔ شہری حلقوں نے متعلقہ اداروں سے اس صورتحال کا فوری نوٹس لینے اور جوئے کے مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جہلم شہر کے مشین محلہ، شمالی محلہ، باغ محلہ، جادہ، بلال ٹاؤن، محمدی چوک اور کالا گجراں سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر آن لائن اور روایتی جوئے کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض افراد کرکٹ، فٹبال اور دیگر ملکی و بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں پر شرطیں لگوا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض افراد مبینہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں اور بعض اوقات لاکھوں روپے کے داؤ لگا رہے ہیں، جبکہ کھیلوں کے مقابلوں کے دوران موبائل فونز، واٹس ایپ گروپس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے شرط بازی کا نیٹ ورک بھی فعال رہنے کی اطلاعات ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جوئے کی ایسی سرگرمیوں سے بالخصوص نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے۔ بعض بکی مبینہ طور پر نوجوانوں کو جلد اور آسانی سے زیادہ رقم کمانے کا لالچ دے کر شرط بازی کی جانب راغب کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد مالی مشکلات اور خاندانی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں کی جانب سے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر سرگرم بکیوں اور ان کے سہولت کاروں سے متعلق معلومات اور فہرستیں مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ اداروں کی جانب سے تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
سماجی اور مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ جوا نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ مالی تباہی، خاندانی تنازعات اور معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے جوئے کے مبینہ نیٹ ورکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔
شہری حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جہلم شہر اور ضلع بھر میں جوئے کی مبینہ سرگرمیوں کا فوری نوٹس لے کر ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور نوجوانوں کو اس غیر قانونی سرگرمی سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ اطلاعات مقامی ذرائع اور عوامی شکایات کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔ متعلقہ اداروں کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی شاملِ خبر کیا جائے گا۔



