جہلم کا کرکٹ سٹیڈیم غیر قانونی طور پر برطانوی شہری کو ٹھیکے پر دے دیا گیا

جہلم: کرکٹ سٹیڈیم کو انتظامیہ نے مبینہ غیر قانونی طور پر برطانوی شہری کو ٹھیکے پر دے دیا۔ شہری نے صوبائی محتسب کے پاس درخواست دائر کر دی، سی او میونسپل کمیٹی جہلم نے کرکٹ سٹیڈیم کو ٹھیکے پر دینے کی تردید کر دی۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کے کرکٹ سٹیڈیم کو انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی طور پر پاکستانی نژاد برطانوی شہری محمد ارشد کو مبینہ ٹھیکے پر دینے پر اشفاق بٹ نامی شہری نے صوبائی محتسب کے پاس درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں کہا گیا کہ محمد ارشد ایک برطانوی شہری ہے جس کے پاس پاکستان میں نہ کوئی کمپنی ہے اور نہ ہی وہ ٹیکس دہندہ ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل (اے ڈی سی جی) اور چیف آفیسر میونسپل کمیٹی جہلم نے اربوں روپے مالیت کی سٹیڈیم کی پراپرٹی غیر ملکی شہری کو ٹھیکے پر دے کر ایم او یو سائن کیا۔
اشفاق بٹ کا کہنا ہے کہ اگر محمد ارشد سٹیڈیم پر قابض ہو جاتے ہیں تو یہ جہلم کے مقامی شہریوں اور کھلاڑیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں فریقین کو بلا کر ایم او یو منسوخ کیا جائے اور قانونی کارروائی کی جائے، کیونکہ یہ پراپرٹی میونسپل کمیٹی جہلم کی ملکیت ہے اور اس پر صرف جہلم کے شہریوں کا حق ہے۔
اس معاملے پر سی او میونسپل کمیٹی جہلم مبارک علی نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو ایم او یو سائن ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، سٹیڈیم کی ریویمپنگ کا کام جاری ہے اور ایک مخیر شخص نے سٹیڈیم کی تزئین و آرائش کا ذمہ اٹھایا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز جہلم کرکٹ سٹیڈیم کی بحالی اور تزئین و آرائش کے لیے ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی اور سماجی شخصیت محمد ارشد کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے تھے۔ ایڈمنسٹریٹر میونسپل کمیٹی و ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل جہلم صباء سحر اور سماجی شخصیت محمد ارشد نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت سٹیڈیم کو نہ صرف جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جائے گا بلکہ دیگر کھیلوں کے لیے بھی قابل استعمال بنایا جائے گا، جس سے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کے مواقع فراہم ہوں گے۔



