آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے، ہمیں ملک کی قدر کرنی چاہیے، شہری و کاروباری حلقے

جہلم: 14 اگست یوم آزادی وطن عزیز کے لیے دی جانے والی ان گنت قربانیوں اور لازوال داستانوں کی یاد دلاتا ہے زندہ قو میں اپنے محسنوں اور شہداء کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں۔

اس حوالے سے بازاروں میں عارضی سٹالز قائم کرنے والے دکانداروں نے بتایا کہ وہ بھی محب وطن ہیں دکان داری کا واحد مقصد صرف پیسے کمانا نہیں نئی نسل میں آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے ، خریداری کے لئے آنے والے نوجوانوں، بچوں میں 14 اگست منانے کے حوالے سے جوش و خروش دیدنی تھا۔

اس حوالے سے شہریوں کا کہنا تھا کہ ہر محب وطن آزادی کا دن جوش ولولے کے ساتھ منانا چاہتا ہے ،آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے ہمیں ملک کی قدر کرنی چاہیے۔

شہریوں کا کہنا تھا آج ملکی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے آج ہم نے قائد کے نظریہ اور اقبال کے فرمودات کو بھلا دیا ہے آج ہم کو اتحاد و یگانت کی ضرورت ہے اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی بازار سبز ہلالی پرچموں سے سج گئے ہیں۔ گلیوں محلوں میں بھی 14 اگست کے حوالے سے مختلف اشیاء جن میں پرچم، بیجز، بچوں کے کپڑے، جھنڈیاں، ٹوپیاں ، اسٹیکرز وغیرہ کے اسٹالز لگا دیئے گئے ہیں۔

اس موقع پر بچوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا جوش خروش قابل دید ہے۔ رات کو بلند عمارتوں اور گھروں پر چراغاں کرنے کی مہم کا آغاز بھی ہو چکا ہے ، بازاروں میں لگائے گئے اسٹالوںسمیت سڑکوں کے کناروں پر جشن آزادی منانے کیلئے جوش و خروش سے جھنڈوں، جھنڈیوں بیجز ،ا سٹیکرز ، سبز سفید لباس ، ٹوپیاں بھی فروخت کی جارہی ہیں بچے اپنے بزرگوں سے حصول آزادی کے لئے دی گئیں۔

قربانیوں و مشکلات سکھوں اور ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر کئے جانے مظالم کی داستانیں سن کر آزادی ملنے کی نعمت پر کلمہ شکر پڑھتے دکھائی دیتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button