زمیندار اور کاشتکار گندم کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہر گز نہ جلائیں، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت جہلم

جہلم: ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت جہلم نے کسانوں، زمینداروں اور کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ گندم کی کٹائی کے بعد فصل کی باقیات کو ہر گز نہ جلائیں کیونکہ اس عمل سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ انسانی صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سے فضائی آلودگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے جو نہ صرف شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں میں بھی اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے مشورہ دیا کہ گندم کی کٹائی کے بعد جدید مشینری کا استعمال کیا جائے، جس سے نہ صرف فصل کی باقیات کو محفوظ طریقے سے ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ ان سے بھوسہ توڑی بھی تیار کی جا سکتی ہے۔ یہ بھوسہ جانوروں کے لیے عمدہ چارہ ثابت ہوتا ہے اور اس کی فروخت سے کسان اور زمیندار اضافی آمدن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے اس حوالے سے کسانوں میں خصوصی آگاہی مہم بھی جاری ہے تاکہ وہ ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے دیگر اضلاع کی طرح جہلم میں بھی گندم کی کٹائی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور اس موقع پر جدید مشینری کا استعمال نہایت ضروری ہے تاکہ فصل کی باقیات کو جلانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گندم کی کٹائی کے لیے ایسی مشینیں موجود ہیں جن سے نہ صرف مکمل کٹائی ممکن ہے بلکہ بھوسہ تیار کر کے اسے مؤثر طریقے سے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔



