جہلم میں رمضان کے دوسرے عشرے میں سبزیوں اور پھلوں کی گراں فروشی، صارفین پریشان

جہلم: ضلعی ہیڈکوارٹر میں رمضان کے دوسرے عشرے میں بھی سبزیوں اور پھلوں کی گراں فروشی پر قابو نہ پایا جا سکا، جس کی وجہ سے صارفین شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ بیشتر علاقوں میں دکانداروں نے 11 ویں روزے کو بھی سبزیوں اور پھلوں کی کھلے عام گراں فروشی جاری رکھی، جس سے عوام کا استحصال ہنوز جاری ہے۔

صارفین کے مطابق، سرکاری ریٹ لسٹ میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں واضح فرق پایا گیا۔ ایک کلو آلو کچا چھلکا نیا درجہ اول 55 روپے مقرر تھا لیکن دکانداروں نے 75 روپے تک فروخت کیا۔ پیاز درجہ اول کی سرکاری قیمت 50 روپے تھی، جبکہ دکانداروں نے 70 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کیا۔

اسی طرح ٹماٹر 43 روپے فی کلو کی بجائے 70 روپے، ادرک تھائی لینڈ 375 روپے کی بجائے 500 روپے، کھیرا فارمی 60 روپے کی بجائے 70 روپے، بینگن 75 روپے کی بجائے 90 روپے، اور بند گوبھی 35 روپے کی بجائے 55 روپے فی کلو میں فروخت ہوئی۔

پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جیسے ایک کلو سیب ایرانی درجہ اول 310 روپے کی بجائے 400 روپے، مسمی درجہ اول 190 روپے کی بجائے 250 روپے درجن، خربوزہ درجہ اول 120 روپے کی بجائے 170 روپے فی کلو، اسٹابری درجہ اول 300 روپے کی بجائے 600 روپے، انگور ٹافی 400 روپے کی بجائے 500 روپے، اور ایرانی کھجور 470 روپے کی بجائے 580 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جا رہی تھی۔

شہریوں نے متعلقہ حکام سے گراں فروشی کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو رمضان المبارک میں ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button