مہنگائی کا طوفان مویشی منڈی پر بھی اثر انداز، سنت ابراہیمی عام شہریوں کیلئے خواب بن کررہ گئی

جہلم: مہنگا ئی کا طوفان مویشی منڈی پر بھی اثر انداز ہونے لگا، سنت ابراہیمی عام شہریوں کے لئے خواب بن کررہ گئی۔ مویشی منڈی میں بکروں، دنبوں، بیل کی قیمتیں آسمانوں کو چھونے لگیں۔

شہریوں کا اجتماعی قربانیوں کی جانب رجحان بڑھنے لگا جبکہ لوٹ مار کرنے کے لئے قصابوں نے بھی چھریاں ، ٹوکے تیز کرلئے ۔ جیسے جیسے عید قرباں قریب آرہی ہے ویسے ہی اشیاء ضروریات ِزندگی کی قیمتیں بڑھنے کیسا تھ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں بھی آسمانوں کو چھو نے لگی ہیں۔

30 کلو وزن رکھنے والے بکروں اوردنبوں کا ریٹ 1 لاکھ جبکہ30 سے زائد وزن کے جانورں کا نرخ ڈیڑھ لاکھ سے زائد بتائے جاتے ہیں ۔ چھوٹے جانوروں کی قیمتیں بھی عام آدمی کی دسترس سے باہر ہونے لگیں۔ جس کے باعث شہریوں کی زیادہ تر تعداد اجتماعی قربانی میں ہی حصہ ڈالنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

دوسری جانب شہر سے باہر سرکاری سطح پر لگائی جانیوالی مویشی منڈی کا جائزہ لیا جائے تو قربانی کے اکا دکا جانورتو موجود ہیں مگر خریدار منظر سے غائب ہیں جبکہ شہریوں کو جانوروں کی خریداری کروانے کے لئے ٹاؤٹ بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔

مہنگائی کے مارے شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ زنی کر نے کے لئے قصابوں نے بھی عید الاضحیٰ کے پہلے، دوسرے اور تیسرے دن جانوروں کو ذبح کرنے کے لئے الگ الگ نرخ مقرر کر دیئے ہیں اگر کسی شہری نے علی الصبح نماز عید کے بعد پہلا نمبر لینا ہے تو قصائی منہ مانگے دام وصول کرنے کیسا تھ ناشتہ بھی مذکورہ شہری کے گھر سے ڈکارتے ہوئے جانور کے من پسند حصہ کا گوشت بھی لے جائے گا۔

کمر توڑ مہنگاہی پر شہریوں کا کہنا ہے کہ صدر ِ پاکستان ، وزیر اعظم پاکستان ، وزیراعلیٰ پنجاب ہمارے ٹیکسوں کے پیسوں پر اپنی شاہانہ زندگیاں گزارتے ہیں اور آئی ایم ایف سے لئے گئے تمام قرضہ جات کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جبکہ مہنگا ئی کا سونامی اسقدر عروج پر ہے کہ سنت ابر اہیمی کو ادا کرنا مشکل ہو چکا بکروں اور دنبوں کی قیمتیں عام آدمی کے بس سے باہر ہونے کی وجہ سے اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالنے سے ہی گھر یو بجٹ کو بچایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button