غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں، رفعت محمود زیدی

سوہاوہ/جہلم: پنجاب میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے حوالے سے پارلیمانی ورکنگ گروپ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف پارلیمانی نمائندگان، ماہرین اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
یہ اجلاس برطانوی ہائی کمیشن اور SSDO (سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن) کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور اس کے تدارک کے لیے مختلف اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے سید رفعت محمود زیدی نے کہا کہ غیر قانونی طریقوں سے بیرون ملک جانے والے افراد کو شدید مشکلات اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے سدباب کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارا قیمتی سرمایہ اور ملک کا روشن مستقبل ہیں، لہٰذا ان کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
ایم پی اے رفعت محمود زیدی نے مزید کہا کہ حکومت کو ایسی پالیسیز مرتب کرنی چاہئیں، جو نوجوانوں کو قانونی ذرائع سے بیرون ملک ملازمت کے حصول میں معاونت فراہم کریں تاکہ وہ غیر قانونی ہجرت کے بجائے محفوظ اور قانونی طریقے سے اپنا مستقبل سنوار سکیں۔
اجلاس میں مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت قانون سازی، عوامی آگاہی مہمات، نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام اور قانونی امیگریشن کے طریقہ کار کو آسان بنانے جیسے اقدامات شامل تھے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس ناسور کے خلاف حکومت، سول سوسائٹی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔
اجلاس کے اختتام پر برطانوی ہائی کمیشن اور SSDO کے نمائندگان نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف کیے جانے والے اقدامات عالمی سطح پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔



