دین اور ناموس رسالتؐ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا، بلیک برن میں جلوس کے شرکاء کا عزم

گریٹر مانچسٹر / بولٹن: برطانیہ کے دیگر شہروں کی طرح یہاں بلیک برن میں بھی عید میلاد النبیﷺ انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و خروش سے منایا گیا ۔
لنکاشائرکے ٹاؤن بلیک برن میں عیدمیلادالنبیؐ کے سب سے بڑے جلوس میں ہزاروں عاشقان رسولؐ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امت مسلمہ اپنی عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرکے ناموس رسالتؐ اور اپنے دین کی حفاظت کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
مرکزی جامع مسجد رضا کے زیراہتمام نکلنے والے اس عظیم الشان جلوس کی قیادت حضرت علامہ پیر سید محمد شعیب حسین شاہ، علامہ شاہد حسین مدنی، علامہ محمد ایوب چشتی، مولانا حافظ ذوالفقار علی، مولانا جاوید جلالی ، سید مبشر حسین شاہ، مولانا محمد ادریس، سید عطاالرحمٰن شاہ اوردیگر مشائخ عظام اورعلمائے کرام نے کی۔
جلوس کا آغاز بعد نمازظہر مرکزی جامع مسجد رضا سے ہو ا جوبلیک برن کی مختلف شاہراہوں سے ہوتاہوا مدینہ مسجد اوک اسٹریٹ پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس میں لنکاشائر کے علاوہ نارتھ ویسٹ کے مختلف شہروں سے عاشقان رسولؐ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بلیک برن سمیت برطانیہ کے مختلف شہروں سے عاشقان رسولؐ آمد مصطفی مرحبا مرحبا غلام ہیں غلام ہیں نبیؐ کے غلام ہیں۔
ختم نبوتؐ زندہ باد۔ لبیک یا رسول اللہ جیسے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے سنائی دے رہے تھے جس سے بلیک برن کی فضا درودوسلام کے نعروں سے گونج اٹھی۔ مرکزی جامع مسجد رضا کے رضا کار دستے تمام راستے جلوس میں نظم و ضبط کی پابندی کو یقینی بناتے رہے جبکہ پولیس اہل کار بھی موجود تھے جو ٹریفک کو کنٹرول کر رہے تھے۔
شرکا جلوس کوخاص ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ٹریفک میں رکاوٹ نہ بنیں جلوس کے راستے میں شہریوں نے گرم ٹھنڈے مشروبات کی سبیلیں بھی لگا رکھی تھیں اور بھاگ بھاگ کر شرکا جلوس کی تواضع کر رہے تھے۔
خراب موسم کے باوجود عاشقان رسولؐ نے انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ جلوس جاری رکھا۔ جلوس کا جوش و خروش دیدنی تھا خوبصورت ساعتوں کے جھرمٹ میں شمع رسالتﷺ کے پروانوں کا جم غفیر تھا جوحضوراکرمؐ کے ساتھ لامحدود محبت اور غیرمشروط وفاداری کا ثبوتدے رہے تھے۔ ایسے لگتا تھا کہ لنکاشائر اور نارتھ ویسٹ کے تمام مسلمان اس جلوس میں شامل ہیں۔
جلوس کے فوراً بعدجشن میلادالنبیﷺ کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت علامہ پیرسید محمدشعیب حسین شاہ نے کہاکہ امت مسلمہ اس جہاں میں آنے والے تمام انبیا و مرسلین پر مکمل ایمان رکھتی ہے تاہم نبی پاک ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں قیامت کی صبح ہونے تک کوئی اور نبی پیدا نہیں ہو سکتا۔ عقیدہ ختم نبوتؐ وہی عقیدہ ہے جو صحابہ کرام کا عقیدہ ہے تمام امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ متحد ہو کر اسلام کے خلاف ہونے والی عالمی سازشوں پر کڑی نظررکھیں تاکہ آنے والی نسلیں اسلام کی سربلندی کیلئے بڑھ چڑھ کر کام کرسکیں۔
علامہ محمد ایوب چشتی نے کہا کہ حضور اکرمﷺ کی آمد کے باعث مسلمانوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی آپؐ کی ذات اور آپؐ کی خوشبوسے یہ تمام کائنات مہکتی رہے گی اور حضوراکرمؐ کا اسوہ حسنہ دنیاکے ہر فرد کیلئے ایک ایسا راستہ ہے جس میں ناکامی کا شائبہ نہیں اوریہ وہ کردارہے جس نے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا ۔ موجودہ دور میںامت مسلمہ کو اس بات کا عہد کرنا چاہئے کہ حضور اکرمﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میںشامل کرنے سے ہی ملک وقوم کی بہتری کیلئے کام کیا جا سکتاہے۔
مولانا حافظ ذوالفقار علی نے کہا کہ حضور اکرمؐ کی ولادت باسعادت کی خوشیاں منانا نہ صرف ایمان کی علامت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے اور تمام انبیا کرام نے مخلوق خدا کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئےجو درس دیا ہے اور خود کو پیکر اخلاص بنا کر مخلوق کی راہبری اور رہنمائی کی اس پر انسانیت مخر کرتی رہے گی۔
تقریب سے مولانا جاوید جلالی، سید مبشر حسین شاہ، مولانا محمد ادریس اور سید عطاالرحمٰن شاہ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کی ابتدا صوفی محمد اویس کی تلاوت کلام پاک سے کی گئی اور بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت مقامی ثنا خوان مصطفیٰ نے پیش کیا۔ آخر میں اسلام کی سربلندی پاکستان کی بقا سالمیت فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی اور امت مسلمہ کی کامیابیوں اور کامرانیوں کیلئے خصوصی دعا پیر سید محمد شعیب حسین شاہ نے کی۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



