دینہ: ہائر سکینڈری سکول انتظامیہ کی غفلت ، ڈیسک لگنے سے زخمی طالب علم کو علاج کے بجائے گھر بھیج دیا

دینہ: گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول جی ٹی روڈدینہ میں لاپرواہی کی انتہا، ڈیسک لگنے سے زخمی طالب علم کو علاج کے بجائے گھر بھیج دیا۔
گورنمنٹ ہائر سکینڈری سکول دینہ میں آٹھویں کلاس کے طالب علم صائم رومان کو ڈیسک لگا جس کی وجہ سے طالب علم کی آنکھ پر شدید چوٹ آئی اور خون نکلنا شروع ہو گیا۔ پرنسپل سمیت سکول ٹیچرز نے ایسی بے حسی دیکھائی کہ کسی نے طالب علم کی کوئی پرواہ نہ کی۔
طالب علم کو پرنسپل کے کمرے میں بٹھا دیا گیا، گہرا زخم ہونے کی وجہ بچہ شدید تکلیف محسوس کر تا رہا اور آخر میں بچے کو یہ کہہ کر سکول سے گھر بھیج دیا گیا کہ جاؤ اپنے والد کو ساتھ ہسپتال چلے جانا، بچے کی حالت کافی سیریس تھی اور بچہ بمشکل گھر پہنچا، والد نے فوری ہسپتال پہنچایا جہاں پر ایمرجنسی میں اس کا علاج کیا گیا، اس دوران بچے کی چوٹ سے کافی خون ضائع ہو چکا تھا۔
متاثرہ طالب علم کے والد شفقت نے بی بی سی جہلم کو بتایا کہ سکول اساتذہ تو والدین کا درجہ رکھتے ہیں مگر اس سکول کے اساتذہ کے اس منفی رویہ سے ہمیں کافی تکلیف ہوئی، اگر بچہ اکیلا گھر جاتے ہوئے بے ہوش ہو جاتا تو کون ذمہ دار تھا؟ بچے کی بینائی جانے کا خدشہ تھا، سکول والے ریسکیو 1122 کو بلا سکتے تھے، اس لاپروائی پر ہمیں کافی دکھ پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ میری ڈپٹی کمشنر جہلم اور سی او محکمہ تعلیم جہلم سے التماس ہے کہ سکول کے اساتذہ کو بتائیں کہ دوران سکول اگر کسی بچے کو چوٹ لگے تو کیا کرنا چاہئے نا کہ لاوارث سمجھ کر گھر بھیج دینا کہا کی عقلمندی ہے، اعلی حکام نوٹس لیں۔



