دریائے جہلم میں سگھرپور پتن پر کشتی سروس بغیر حفاظتی انتظامات جاری، ایک اور بڑے حادثے کا خدشہ

جہلم/ پنڈدادنخان: جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقہ سگھرپوردریائے جہلم پتن ایک اور بڑے حادثے کا منتظر، پنجاب حکومت کے احکامات بھی کارگر ثابت نہ ہوسکے، کشتی سروس بغیر حفاظتی انتظامات جاری، شہری سراپاء احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان کے علاقہ سگھرپور پتن پر رواں برس 16مئی کو ضلع کونسل انتظامیہ کی عدم توجہی اورپتن ٹھیکیدار کی نااہلی کیوجہ سے کشتی دریائے جہلم میں ڈوب گئی جسکے نتیجے میں4معصوم بچوں اور 2خواتین سمیت 6 انسانی زندگیوں کو موت کی وادی میں منتقل کردیا گیا۔
اس پر پنجاب حکومت نے ضلع جہلم کی حدود میں واقع تمام پتن پر کشتیوں کی آمدورفت روک دی۔ علاقہ مکینوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے پنجاب حکومت نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دریائے جہلم پر ضلع جہلم کی حدود میں موجود تمام پتن کوبحال کرنے کے تحریری احکامات جاری کیے۔
ضلع کونسل انتظامیہ کو کشتیوں پر سفر کرنے والے مسافروں کی حفاظت کےلیے حفاظتی جیکٹس اور کشتیوں پر مقررہ وزن سے زیادہ وزن لوڈ کرنے سے سختی سے منع کیا اور ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے اور کشتی میں سفر کرنے والے مسافروں کو حفاظتی جیکٹس پہنانے کے احکامات جاری کیے۔
محض 3ماہ کاعرصہ گزرنے کے بعد ضلع کونسل انتظامیہ کی سرپرستی اور ٹھیکیدار کی عدم دلچسپی کے باعث ایک مرتبہ پھر حفاظتی جیکٹس اور زائد وزن لوڈ کرنے کے احکامات ردی کی ٹھوکری میں پھینک دیےگئے۔ اس طرح ایک مرتبہ پھر کشتی میں سفر کرنے والے مسافروں کو موت کی وادی میں پہچانے کےلیے ضلع کونسل انتظامیہ اور ٹھیکیدار نے مہم کا باضابط آغاز کر دیاہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ٹھیکیدار راتوں رات کروڑ پتی بننے کےلیے کستیوں پر گاڑیاں، مسافر اور مویشیوں سمیت دیگر سامان بھی لوڈ کرنے سے گریز نہیں کررہےجو کہ کسی صورت خطرے سے خالی نہیں۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



