جہلم میں اتائی ڈاکٹروں کی بھرمار، جعلی کلینکس شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ

جہلم شہر کے گنجان آباد علاقوں، گردونواح اور مضافاتی دیہات و قصبات میں اتائی ڈاکٹروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کئی اتائی ڈاکٹروں نے دھوکہ دہی کے لیے اپنے کلینکس کے باہر مستند ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کے بورڈ آویزاں کر رکھے ہیں، حالانکہ یہ مستند ڈاکٹر کبھی ان کلینکس کا رخ بھی نہیں کرتے۔

شہریوں کے مطابق بعض اتائی ڈاکٹروں نے مستند ڈاکٹروں سے ان کے نام استعمال کرنے کی باقاعدہ اجازت لے رکھی ہے، جس کے بدلے وہ ان ڈاکٹروں کو ماہانہ طے شدہ رقم ادا کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی ٹیموں کی کارروائی کی صورت میں یہ مستند ڈاکٹر کلینکس کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اتائی قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

یہ سلسلہ اتنا بڑھ چکا ہے کہ تقریباً ہر دوسرے اتائی کلینک پر کسی مستند ڈاکٹر کے نام کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اتائی ڈاکٹرز بے خوف و خطر علاج کے نام پر اپنی پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر مؤثر علاج کی وجہ سے کئی افراد اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے ہیں۔

محکمہ صحت کے متعلقہ ذمہ داران اس جعلسازی سے بخوبی آگاہ ہیں، مگر اس کے تدارک کے لیے کوئی مؤثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کی جانب سے محض رسمی کارروائیاں کی جاتی ہیں، جن کے ذریعے اعلیٰ افسران کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے۔

شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے نوٹس لینے اور فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتائی ڈاکٹروں کے کلینکس کو سیل کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائیاں کی جائیں تاکہ شہری غیر مؤثر علاج اور صحت کے خطرات سے محفوظ رہ سکیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button