مون سون کے دوران خستہ حال عمارتیں شہریوں کے لیے بڑا خطرہ

جہلم: مون سون کے موسم میں جہاں دریاؤں، ندی نالوں میں طغیانی اور ممکنہ سیلابی صورتحال عوام کے لیے خطرات کا باعث بنتی ہے، وہیں ضلع جہلم کے مختلف علاقوں میں موجود پرانی، بوسیدہ اور خستہ حال عمارتیں بھی کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔ مسلسل بارشوں کے باعث متعدد عمارتوں کی دیواریں اور ڈھانچے مزید کمزور ہو چکے ہیں، جس پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

شہریوں کے مطابق اندرون شہر جہلم، کالا گجراں، سنگھوئی، چوٹالہ، ڈومیلی اور پنڈدادنخان سمیت مختلف علاقوں کے قدیمی گلی محلوں میں واقع کئی تاریخی اور رہائشی عمارتیں عرصہ دراز سے خستہ حالی کا شکار ہیں۔ حالیہ مون سون بارشوں کے بعد ان عمارتوں کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے، جبکہ تاحال ان کی مرمت یا حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث کسی بھی وقت جانی و مالی نقصان کا خدشہ موجود ہے۔

سماجی، رفاہی اور فلاحی تنظیموں کے نمائندوں اور مقامی شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ آثارِ قدیمہ، ضلعی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی اور ضلع کونسل مشترکہ طور پر ضلع بھر کی تاریخی اور رہائشی خستہ حال عمارتوں کا فوری سروے کرائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن عمارتوں کو ماہرین خطرناک قرار دیں، ان کے گرد حفاظتی باڑ لگائی جائے، عوام کی آمدورفت محدود کی جائے اور متعلقہ مالکان کو فوری مرمت یا بحالی کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال مون سون کے دوران خستہ حال عمارتوں کے گرنے کے واقعات مختلف علاقوں میں پیش آتے ہیں، اس لیے بروقت حفاظتی اقدامات نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ بلکہ قیمتی تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button