ڈومیلی کی بنیادی ضروریات؛ ترقی، تحفظ اور حکومتی ذمہ داریاں

جہلم کی تحصیل سوہاوہ کے علاقہ ڈومیلی کا شمار ان علاقوں میں ہوتا ہے جو اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ یہاں کے لوگ روزمرہ زندگی میں کئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جیسے کہ صحت کی سہولیات کی کمی، تفریحی مقامات کا فقدان، روزگار کے مواقع کا نہ ہونا اور عوامی تحفظ کے مسائل۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ ڈومیلی کو ترقی کے دھارے میں شامل کیا جا سکے۔

1۔ صحت کی سہولیات: جدید ہسپتال کا قیام

ڈومیلی میں ایک جدید ہسپتال کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہاں کے لوگ اکثر بیماریوں کی صورت میں بڑے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، کیونکہ مقامی طور پر نہ تو کوئی بڑا ہسپتال ہے اور نہ ہی جدید علاج کی سہولیات دستیاب ہیں۔ فوری طبی امداد کے فقدان کی وجہ سے عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات مریضوں کی جانیں بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہیں۔ ایک جدید ہسپتال جہاں ہر قسم کی طبی سہولیات دستیاب ہوں، نہ صرف عوام کو علاج معالجے میں آسانی فراہم کرے گا بلکہ انہیں بڑے شہروں کے چکر لگانے کی زحمت سے بھی نجات دلائے گا۔

2۔ نادرا آفس اور دیگر سرکاری دفاتر کا قیام

ڈومیلی کے عوام کو نادرا آفس اور دیگر سرکاری خدمات کے لیے دور دراز کے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے وقت اور پیسے کا ضیاع ہوتا ہے۔ شناختی کارڈ، پاسپورٹ، اور دیگر اہم سرکاری دستاویزات کے لیے ایک مقامی نادرا آفس کا قیام نہایت ضروری ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف عوام کو سہولت فراہم ہو گی بلکہ انتظامی مسائل بھی حل ہوں گے اور لوگ اپنی ضروریات کو مقامی سطح پر ہی پورا کر سکیں گے۔

3۔ تفریحی سہولیات؛ پارک اور کھیل کے میدان

ڈومیلی میں تفریحی سہولیات کی کمی ہے، جس کی وجہ سے عوام خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کے لیے کوئی مناسب تفریحی جگہ موجود نہیں۔ ایک خوبصورت پارک اور کھیل کے میدان کا قیام یہاں کے لوگوں کو صحت مند اور تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کا بہترین ذریعہ ہو گا۔ پارک اور کھیل کے میدان نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان سے معاشرتی ہم آہنگی اور ذہنی سکون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

4۔ روزگار کے مواقع: فیکٹریوں اور کارخانوں کا قیام

ڈومیلی کے عوام کے لیے روزگار کے مواقع نہایت محدود ہیں۔ یہاں فیکٹریاں اور کارخانوں کا قیام علاقے کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ یہاں صنعتی ترقی کے لیے سرمایہ کاری کرے تو مقامی افراد کو روزگار ملے گا اور علاقائی پسماندگی کم ہو گی۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری کا خاتمہ ہو گا بلکہ ڈومیلی کی معاشی حالت میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

5۔ سڑکوں پر ٹریفک اور بچیوں کی حفاظت

ڈومیلی میں اسکول اور کالج کے اوقات میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر چھٹی کے وقت سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک عوام کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول اور کالج کی بچیوں کے لیے آوارہ لوگوں کی موجودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں اور کالجوں کے نزدیک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنائیں اور بچیوں کے تحفظ کے لیے سکیورٹی کو مضبوط کریں۔

پولیس کی پٹرولنگ بڑھائی جائے تاکہ آوارہ اور غیر ذمہ دار افراد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات بھی انتہائی ضروری ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا اور بچیوں کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔

6۔ ڈومیلی کو تحصیل کا درجہ دینا

ڈومیلی کو تحصیل کا درجہ دینے سے یہاں کے مسائل کے حل کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ تحصیل بننے کے بعد یہاں کے عوام کو انتظامی سہولیات مقامی سطح پر ہی دستیاب ہوں گی اور علاقے میں ترقیاتی منصوبے تیز رفتاری سے مکمل کیے جا سکیں گے۔ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز کے علاقوں میں جانے کی ضرورت نہیں رہے گی، اور یہ علاقہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔

حکومت، اپوزیشن، مخیر حضرات اور بیرون ملک پاکستانیوں سے اپیل

ڈومیلی جیسے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور یہاں کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے حکومت، اپوزیشن، مخیر حضرات، بزنس مین گروپس، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور انتظامی اداروں کی فوری توجہ اور تعاون کی ضرورت ہے۔ اس خطے کے عوام زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ ڈومیلی کو تحصیل کا درجہ دینے پر غور کریں تاکہ یہاں کے لوگوں کو انتظامی سہولیات مقامی سطح پر مل سکیں اور ترقیاتی منصوبوں کی راہ ہموار ہو سکے۔ اپوزیشن جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ بھی اس علاقے کی پسماندگی کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اجاگر کریں۔

مخیر حضرات اور بزنس مین گروپس سے درخواست ہے کہ وہ اس علاقے میں سرمایہ کاری کریں اور یہاں کے لوگوں کے لیے فیکٹریوں، کارخانوں اور تعلیمی اداروں کے قیام میں مدد کریں تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہو سکے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ اپنے وطن کے اس پسماندہ علاقے کی ترقی میں حصہ ڈالیں اور یہاں کے عوام کی مدد کے لیے فلاحی منصوبوں کا آغاز کریں۔

آخر میں، انتظامی اداروں سے درخواست ہے کہ وہ ڈومیلی کے عوام کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ یہاں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، خصوصاً صحت، تعلیم، روزگار، اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانا ان کی ذمہ داری ہے۔

نتیجہ

ڈومیلی جیسے علاقے کو نظرانداز کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہاں کے لوگوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ایک سنگین مسئلہ ہے جسے حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے۔ صحت، تعلیم، روزگار اور عوامی تحفظ جیسے بنیادی مسائل کا حل نہ صرف عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنائے گا بلکہ علاقے کی مجموعی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ ڈومیلی کو تحصیل کا درجہ دینا اور اس کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہاں کے عوام بھی ایک خوشحال اور بہتر زندگی گزار سکیں۔

تحریر:عبدالقدوس (ڈومیلی، تحصیل سوہاوہ، ضلع جہلم)

(ادارے کا لکھاری کی رائے اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button