جہلم میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی ٹھنڈے مشروبات کے پوائنٹس شہریوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

جہلم: ضلع جہلم میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی شہر اور مضافاتی علاقوں کی سڑکوں کے دونوں اطراف ٹھنڈے مشروب "سردائی” کے درجنوں پوائنٹس قائم ہو گئے ہیں، جہاں شہریوں کو ٹھنڈی اور فرحت بخش سردائی پیش کی جا رہی ہے۔

ماضی میں پہلوانوں کا روایتی مشروب کہلانے والی سردائی اب جدید مشینوں کے ذریعے تیار کی جا رہی ہے اور عوام میں اس کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پہلے پہلوان اپنی جسمانی مشق کے طور پر کونڈی میں موٹے لکڑی کے ڈنڈے سے بادام، خشخاش، کالی مرچ اور چار مغز کو گھوٹ کر سردائی تیار کرتے تھے، جسے "گھوٹا” کہا جاتا تھا۔ اس محنت طلب عمل میں جسمانی قوت کا بھرپور استعمال ہوتا تھا، جو پہلوانوں کے روزمرہ کی مشق کا بھی حصہ تھا۔ بعد ازاں اس آمیزے میں پانی شامل کر کے فرحت بخش مشروب بنایا جاتا تھا۔

تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اور پہلوانی کی روایت کمزور پڑنے پر گھوٹے کی جگہ جدید دیسی ساخت کی مشینوں نے لے لی ہے، جو اب سردائی کی تیاری میں استعمال ہو رہی ہیں۔ دکانداروں کے مطابق چند سال پہلے تک دیہات کی سڑکوں پر محدود پیمانے پر فروخت ہونے والی سردائی کو اب شہری علاقوں میں بھی بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ محنت کشوں نے اس روایتی مشروب کو نئے انداز میں متعارف کرایا اور اسے "سردائی” کے نام سے فروغ دیا۔

سردائی فروش دکانداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جب مارکیٹ میں مختلف ٹھنڈے مشروبات دستیاب ہیں، سردائی کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ سردائی نہ صرف ذائقے دار بلکہ جسمانی قوت بڑھانے والا مشروب بھی ہے، اسی لیے لوگ خود بھی سردائی پینے آتے ہیں اور اپنے گھروں کے لیے بھی لے جاتے ہیں۔

دکانداروں نے مزید بتایا کہ وہ سردائی کو حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق تیار کرتے ہیں، اور گرمیوں کے اس موسم میں یہ مشروب ان کے لیے بہترین ذریعہ معاش بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button