جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں سیمنٹ کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہوگئی

جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں سیمنٹ کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہوگئی ، سیمنٹ کی بوری 1700 روپے میں فروخت کی جانے لگی۔ سیمنٹ سمیت تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے مزدور بے روز گار ہونے لگے جبکہ سفید پوش طبقہ کے لئے سرچھپانا بھی مشکل ہو گیا۔ بلڈنگ میٹریل مہنگا ہونے سے سینکڑوں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں کنٹرول نہ ہونے سے سیمنٹ کی بوری تاریخ کی بلند ترین سطح پر فروخت ہونے لگی ۔ تعمیراتی میٹریل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد عام آدمی کا گھر بنانے کا خواب ادھورا ہو کر رہ گیا۔
مہنگائی میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی بوری سرکاری نرخوں پر فروخت کرنے کی بجائے ڈیلرز نے بلیک میں 1700 روپے فی بوری فروخت کرنی شروع کررکھی ہے جبکہ سر یا 270 روپے فی کلو، اینٹ فی ہزار 17000 روپے، بجری 130 فی فٹ ریت کا ٹرالی 25000 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
میٹریل کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر لوگوں نے اپنے تعمیراتی کام رکوا دیئے ہیں جس سے مزدور طبقہ بے روزگار ہو گیا ہے ، دوسری جانب مزدوروں نے اپنی دیہاڑی میں بھی اضافہ کر نے پر سوچ بچار کرنی شروع کردی ہے ۔ اسی طرح مستری بھی منہ مانگی اجرت طلب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقامی بلڈنگ میٹریل ڈیلرز نے رواں ماہ سیمنٹ کی بلیک مارکیٹنگ میں لاکھوں روپے کمانے شروع کررکھے ہیں، پراناسٹاک رکھ کر ڈیلرزمنہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔
شہریوں نے ارباب اختیار سے نوٹس لینے اور سرکاری نرخوں پر تعمیراتی میٹریل فروخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں



