روزانہ صرف 5 منٹ کی چہل قدمی زندگی بدل سکتی ہے، ڈاکٹر طیبہ مسعود

دینہ: ڈاکٹر طیبہ مسعود نے کہا کہ ہر شخص صحت مند زندگی کے لیے واک یعنی چہل قدمی کی اہمیت اور افادیت سے واقف ہے۔ مصروف زندگی کے باوجود بہت سے افراد پارک کا رخ کرتے ہیں تاکہ خود کو فٹ اور متحرک رکھا جا سکے۔

جسمانی چربی میں کمی اور صحت کے متعلق امور پر گفتگو کرتے ہوئے معروف سکن اسپیشلسٹ ڈاکٹر طیبہ مسعود نے کہا کہ واک نہ صرف بلڈ شوگر کی سطح بہتر کرنے، دل کی صحت کے لیے معاون اور میٹابولزم بڑھانے میں مددگار ہے بلکہ اس دوران انسانی جسم آکسیجن کی مدد سے چربی اور کاربوہائیڈریٹس کو توانائی میں بدل دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صبح کی چہل قدمی کے دوران جسم خالی پیٹ ہوتا ہے جبکہ شام میں جسم کو دوپہر کے کھانے سے غذا مل چکی ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ناشتے سے پہلے ورزش سے جسمانی چربی کے جلنے کا عمل 24 گھنٹے کے دوران زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس وقت انسولین کی سطح کم ہوتی ہے، جو اس عمل کے لیے معاون ہے۔ اس کے برعکس، کھانے کے بعد واک کرنے سے جسم زیادہ تر گلوکوز یعنی کاربوہائیڈریٹس کو استعمال کرتا ہے۔

ڈاکٹر طیبہ مسعود نے بتایا کہ صبح اور شام دونوں اوقات کی واک صحت کے لیے مفید ہے، لیکن خالی پیٹ چہل قدمی چربی جلانے کے لیے زیادہ مؤثر ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ خالی پیٹ واک کے دوران بلڈ شوگر کم ہونے کی وجہ سے چکر، کمزوری یا غشی ہو سکتی ہے، خاص طور پر ذیابیطس اور دل کے مریضوں کے لیے احتیاط لازمی ہے۔

وزن کم کرنے اور صحت مند طرزِ زندگی کے لیے ڈاکٹر طیبہ مسعود نے کہا کہ افراد اپنے ڈائٹ پلان اور دوائیوں کی مدد سے وزن کم کرنے کے لیے ان سے رجوع کر سکتے ہیں۔ وہ ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 10 بجے سے دن 1 بجے تک مریضوں کا معائنہ عدیل کلینک نزد مرکزی جامع مسجد و میزان بیک جی ٹی روڈ دینہ پر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر نے مزید کہا کہ اب میڈیکل سائنس اتنی ترقی کر گئی ہے کہ وزن کم کرنا آسان ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button