سوہاوہ میں تین منزلہ عمارت میں آتشزدگی، 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا سامان جل کر خاکستر

سوہاوہ کے نواحی گاؤں ڈھوک امب تین منزلہ عمارت میں آگ بھڑک اٹھی، آتشزدگی سے لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈھوک امب کاسمیٹک کے ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی، آگ بیسمنٹ والے گودام میں لگی جس میں کاسمیٹک کا سامان، بچوں کے ڈائپر، کپڑے، شیمپو جو مکمل جل کر خاکستر ہو گیا۔ گودام محلے میں ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیم کو بھی پریشانی کا سامناکرناپڑا۔
ریسکیو ٹیم نے تقریباً دو گھنٹے میں آگ پر قابو پا لیا لیکن کولنگ کا عمل تقریباً 3گھنٹے جاری رہا۔
ریسکیو کے مطابق تقریباً 2ٹینک پانی لگا ریسکیو ٹیم نے پوری مہارت سے اس آپریشن کو مکمل کیا، اگر آگ کو قابو کرنے میں وقت لگتا تو عمارت کے بلاسٹ ہونے کا بھی خطرہ موجود تھا، آگ لگنے کی وجہ تاحال پتا نہ چل سکی۔
ریسکیو کے مطابق اس کی مکمل انکوائری سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آگ کیسے لگی کیونکہ ارد گر دیکھا جائے تو شارٹ سرکٹ والا سسٹم ہی موجود نہیں کیونکہ گودام میں کسی قسم کی الیکٹرک کا کنکشن ہی نہیں یعنی گودام میں بجلی کی سہولت موجود ہی نہ ہے۔ آگ کی شدت ایسی تھی کہ اردگردگھروں کو بھی ہنگامی طور پر خالی کروا لیا گیاتھا۔ ٹوٹل 5گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا لیکن گودام میں موجود تمام سامان جل خاکستر ہو گیا ۔
دانیال کاسمیٹک سٹور کے مالکان نعمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 15سے 20لاکھ کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا، دانیال کاسمیٹک سٹور کے مالکان کے مطابق وہ علاقے میں سپلائی کا بھی کام کرتے ہیں وہ دوکان پر موجود نہ تھے بلکہ مارکیٹ میں گئے ہوئے تھے مکان کے اوپر والے پورشن میں رہائش بھی ہے ان کو بھی آگ لگنے کے کافی دیر بعد پتا چلا جب دھواں نے شدت اختیار کی۔ ریسکیو ٹیم کے پہنچنے تک عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجانے کی پوری کوشش کی۔
عوام نے ریسکیو ٹیم کا شکریہ ادا کی ساتھ اعلی حکام سے اپیل کی کہ وہ سوہاوہ میں فائر بریگیڈ کا بھی مکمل انتظام کیا جائے کیونکہ فائر فائٹر اور ریسکیو فائر برگیڈ جہلم کی ٹیم نے اس آپریشن کو مکمل کیا اور اگر سہولت نزدیک ہوتی تو جلد آگ پر قابو پایا جاسکتا تھا۔



