اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا ڈیل ڈھونڈنے کے مترادف ہوگا، فواد چوہدری

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کی باتوں پر حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا ڈیل ڈھونڈنے کے مترادف ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے غیرملکی میڈیا کو کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ حیرانی ہوتی ہے پی ٹی آئی کی جانب سے کون ایسے مذاکرات کا مشورہ دے رہا ہے، مذاکرات تب کامیاب ہوں گے جب برابری کی سطح پر بیٹھ کر بات ہوگی۔

سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اس وقت صرف اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرنی چاہیے، حکومت سے دوسرے مرحلے میں مذاکرات ہونے چاہییں۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات سے متعلق باتوں پر انھوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا ڈیل ڈھونڈنے کے مترادف ہوگا، بانی پی ٹی آئی اگر ایسا کریں گے تو ان میں اور شہبازشریف میں کیا فرق رہ جائے گا۔

سابق رہنما نے پارٹی چھوڑنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا پی ٹی آئی نہیں چھوڑی اسی کا حصہ ہوں، آئی پی پی کے ساتھ پریس کانفرنس جن حالات میں ہوئی سب کے سامنے ہے، بانی پی ٹی آئی سےجیل میں دو تین مرتبہ ملاقات ہو چکی ہے۔

پارلیمان سے استعفے دینے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان سے استعفے دینے سے متعلق فیصلہ بانی پی ٹی آئی کا تھا، پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کی وجوہات دو فیصلے ہیں، ایک اسمبلیوں سے استعفے دینا اور دوسرا اسمبلیاں توڑنا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہم نظام میں رہتے ہوئے لڑنے کی کوشش کرتے تو آج ہمارا نام و نشان نہ ہوتا۔

شیر افضل مروت جیسے لوگ حادثاتی طور پر سیاست میں آجاتے ہیں ،فواد چوہدری

قبل ازیں سیاست ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فوا د چوہدری کا کہنا ہے کہ شیر افضل مروت جیسے لوگ حادثاتی طور پر سیاست میں آجاتے ہیں، یہ سارے ڈرائیور لیول کے لوگ ہیں جو جیت کر آگئے ہیں ان کی سیاسی خدمات کیا ہیں،جب تک عمران خان جیل میں بند ہے اس وقت تک فلم بند ہے۔

سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے مزید کہا کہ اس وقت تو بس آئٹم سانگ چل رہے ہیں ان کو دیکھ کر انجوائے کریں‘؟ ۔

انہوں نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اچھے آدمی ہیں میں نے ان کے خلا ف بات نہیں کی اور نہ کرنا چاہتا ہوں لیکن میں ان سے مل کر یہ ضرورپوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے یہ سب کیوں کیا۔ جنرل باجوہ سے کہا تھا کہ الیکشن کروادیں لیکن انہوں نے ن لیگ سے کہا کہ الیکشن نہیں کروانے، موجودہ آرمی چیف سے ہمارا رابطہ ہوجاتا تو چیزیں خراب نہ ہوتیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button