محنت کش آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے لیے دربدر ہیں، حاجی محمد افضل بلوچ

جہلم: محنت کش طبقہ آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے چکر میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے، پاکستان کا مزدور بدترین مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
ان خیالات کا اظہار مزدور رہنما حاجی محمد افضل بلوچ نے پنجاب پی ڈبلیو ڈی کے مزدوروں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم مئی ہمیں شکاگو کے اُن مزدوروں کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ اگر مزدور کو اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا جائے تو وہ کسی بھی حد سے گزرنے سے گریز نہیں کرتا۔ افسوس کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ہمارے حکمران مزدوروں کی حالت زار کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔
حاجی محمد افضل بلوچ کا کہنا تھا کہ مزدور کے تحفظ کی جنگ آج بھی جاری ہے، لیکن مزدوروں کے حقوق پر دیدہ دلیری سے ڈاکے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اور عوامی سطح پر محنت کشوں کو عزت و وقار دیا جانا چاہیے۔ مزدور اس ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کی قدر کی جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح سرکاری ملازمین کو سالانہ مراعات دی جاتی ہیں، اسی طرح حکومت محنت کشوں کی سالانہ مالی امداد کا بھی باقاعدہ بندوبست کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ جو عناصر محنت کشوں کو تنگ کرتے اور ان کے حقوق غصب کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مزدور بھی خوشحال زندگی گزار سکیں۔



