جہلم کے دیہی علاقے رابطہ سہولیات سے محروم، بجلی بند ہوتے ہی موبائل و انٹرنیٹ نیٹ ورکس معطل

جہلم: ضلع جہلم کے مضافاتی علاقوں میں رہنے والے شہری آج کے جدید دور میں بھی بنیادی رابطے کی سہولیات سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔

تحصیل دینہ، تحصیل سوہاوہ اور تحصیل پنڈدادنخان کے دیہی علاقوں میں جب بجلی بند ہوتی ہے تو ان کا دنیا سے ہر قسم کا رابطہ بھی منقطع ہو جاتا ہے۔ بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ بندش کے ساتھ ہی ان علاقوں میں قائم پی ٹی سی ایل ایکسچینجز بند ہو جاتی ہیں، جس کے باعث لینڈ لائن فون، انٹرنیٹ سروس اور تمام موبائل نیٹ ورکس بشمول ٹیلی نار، زونگ، یوفون اور جاز کی سروسز مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان ایکسچینجز میں نصب بیٹریاں اپنی معیاد پوری ہونے کے بعد ناکارہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث وہاں نصب یوپی ایس بھی کام نہیں کرتے۔ اس تکنیکی خرابی کے باعث معمولی لوڈشیڈنگ بھی پورے کمیونیکیشن نظام کو درہم برہم کر دیتی ہے۔ مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ پی ٹی سی ایل کے ضلعی دفاتر کی طرف سے ان مضافاتی علاقوں کی ایکسچینجز کے لیے نہ تو جزیٹر فراہم کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کا وقتاً فوقتاً معائنہ کیا جاتا ہے، حالانکہ دیگر شہروں میں یہ سہولت موجود ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر کبھی آندھی، طوفان یا بارش ہو جائے تو بعض اوقات پی ٹی سی ایل ایکسچینجز کئی کئی دن بند رہتی ہیں، جس دوران نہ صرف انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند رہتی ہے بلکہ ان علاقوں میں نصب سیکیورٹی کیمرے بھی غیر فعال ہو جاتے ہیں، جس سے چوری اور ڈکیتی جیسے جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عوام ایک دوسرے سے بھی رابطے کے ذرائع سے محروم ہو جاتے ہیں جس سے زندگی مزید اجیرن بن جاتی ہے۔

اہل علاقہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ ہی گھروں میں پی ٹی سی ایل کے بل فراہم کیے جاتے ہیں بلکہ صرف موبائل میسج کے ذریعے بل بھیج دیے جاتے ہیں، جو اکثر نظرانداز ہو جاتے ہیں یا تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔ گرمیاں شروع ہوتے ہی اس صورت حال میں مزید ابتری آ جاتی ہے، کیونکہ روزانہ 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے، جس سے عوام کو ناقابل برداشت مشکلات کا سامنا ہے۔

عوامی حلقوں نے پی ٹی سی ایل حکام، وزارت آئی ٹی اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مضافاتی علاقوں میں قائم پی ٹی سی ایل ایکسچینجز میں فوری طور پر نئی بیٹریاں نصب کی جائیں، یوپی ایس سسٹم کو فعال کیا جائے اور جزیٹر فراہم کیے جائیں تاکہ ان علاقوں کے مکینوں کو بھی دیگر شہری علاقوں کی طرح بنیادی رابطہ سہولیات میسر آ سکیں۔ بصورت دیگر یہ صورت حال عوام میں شدید بے چینی اور عدم تحفظ کا باعث بن رہی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button