مسلح ڈاکوؤں کا جلالپور شریف میں دھاوا، خاتون سے مبینہ بدسلوکی، دو دکانیں اور ایک ڈیرہ لوٹ لیا گیا

پنڈدادنخان کے تھانہ جلالپور شریف کی حدود میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
گزشتہ رات تھانہ جلالپور شریف کے مختلف علاقوں میں دو دکانوں اور ایک ڈیرے پر مبینہ مسلح ڈکیتی کی وارداتیں پیش آئیں جبکہ ایک خاتون کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے واقعے نے اہلِ علاقہ میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔
مقامی ذرائع اور شہریوں کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران تھانہ جلال پور شریف کی حدود میں پانچ سے زائد سنگین جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، تاہم تاحال کسی بھی واقعہ میں ملوث ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی، جس کے باعث عوام میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ چوری، ڈکیتی، ہوائی فائرنگ اور دیگر جرائم کے واقعات میں اضافے سے شہری عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر اور فوری کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے بعض شہریوں نے الزام عائد کیا کہ متاثرین کو انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم کی روک تھام اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
اہلِ علاقہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جہلم شفیق احمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تھانہ جلال پور شریف کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا نوٹس لیا جائے اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں محض یقین دہانیوں کے بجائے مؤثر اور نتیجہ خیز اقدامات درکار ہیں تاکہ وہ خود کو اور اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ محسوس کر سکیں اور علاقے میں امن و سکون کی فضا بحال ہو سکے۔



