جہلم میں کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، کسان برادری پریشان

جہلم: ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، کھاد کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسانوں کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران ڈی اے پی کھاد کی فی بوری قیمت میں 36 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد اس کی اوسط قیمت 12,937 روپے ہو چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں ڈی اے پی کھاد سب سے مہنگی یعنی 13,400 روپے فی بوری فروخت کی جا رہی ہے جبکہ جہلم میں بھی قیمت 13,150 روپے فی بوری تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں مجموعی طور پر 1,578 روپے کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

اسی طرح پوٹاشیم سلفیٹ کھاد کی قیمت میں بھی ایک ہفتے کے دوران 95 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اس کی اوسط قیمت 12,145 روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ جہلم میں یہی کھاد 13,800 روپے فی بوری کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے۔ نائٹرو فاسفیٹ کھاد کی قیمت بھی فی بوری 12 روپے بڑھا دی گئی ہے۔

کسان برادری کا کہنا ہے کہ کھاد کی بڑھتی قیمتیں ان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہی ہیں اور کاشتکاری کا شعبہ بدترین بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ کسانوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ کھاد کی قیمتوں کو فوری کنٹرول کیا جائے تاکہ زرعی شعبہ تباہی سے بچایا جا سکے اور کسان خوشحال ہو کر ملکی معیشت کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔

کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ حکومت زرعی ترقی کی دعویدار ہے لیکن کھاد کی قیمتوں میں بے لگام اضافے نے کسانوں کے لیے کھیتی باڑی کو نقصان دہ بنا دیا ہے، فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ فصلوں کی پیداوار شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button