ضلع جہلم میں چالڈ لیبر کی سرعام خلاف ورزیاں، تشدد اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنائے جانے کی اطلاعات

جہلم: ضلع بھر میں چالڈ لیبر کی سرعام خلاف ورزیاں ،ہوٹل، ورکشاپس،بھٹہ و دیگر کارخانوں میں معمولی اجرت کے ساتھ تشدد اور جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنائے جانے کی اطلاعات، حکومتی تعلیمی پالیسی کے مطابق سکولوں میں داخلے کیلئے مشکلات ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع بھر کے بھٹہ خشت ، کارخانوں، مکینک ورک شاپس،ہوٹلوں اور ٹی شاپس پر چالڈ لیبر کی سرعام خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں۔کمسن بچوں کو معمولی اجرت پر ملازم رکھ لیا جاتا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ ہوٹلوں، مکینک شاپس اور کارخانوں میں 12/12گھنٹے سخت ڈیوٹیوں کے ساتھ معمولی سی بات پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ بعض غریب لالچی والدین معصوم بچیوں کو معمولی اجرت پر گھروں میں کام کاج کیلئے چھوڑ دیتے ہیں جو سارا سارا دن بچوں کی دیکھ بھال اور ناز و نخرے اٹھا تی ہیں۔
کھیل کود سے محروم رہنے کے ساتھ ساتھ جابر و ظالم مالکان سے جھڑکیاں تشدد، ظلم وستم بھی سہنا معمولات میں شامل ہوتا ہے۔موجودہ صورتحال انصاف اور چالڈ لیبر کی علمبردار این جی اوز کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
شہریو ں کا کہنا ہے کہ بڑھتی آبادی کے ساتھ ساتھ بچے زیور تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ چالڈ لیبر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سختی سے ایکشن لیا جا ئے اور محکمہ لیبر ضلع جہلم کے ذمہ داران کو چائلڈ لیبر کے خاتمے اور حکومت ِ پنجاب کی طرف سے مقرر کی گئی 32 ہزار پر عملدرآمد کروانے کا پابند بنایا جائے تاکہ غریب مزدور طبقہ سے زیادتی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔



